بولا:”اے ابن واسع!مجھے پہچانتے ہو؟“آپ نے پوچھا:”تم کون ہو؟“ بولا:”میں شیطا ن ہوں۔“آپ نے پوچھا:”کیا چاہتاہے؟“ بولا:”میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ دعا کسی کو نہ سکھائیں، میں آپ کے پیچھے نہیں پڑوں گا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”بخدا!جومجھ سے اس دعا کو سیکھنا چاہے گا میں اسے کبھی منع نہیں کروں گا،تو جو چاہے کرلے۔“
شیطان منہ کے بل گرپڑا:
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھ رہے تھے کہ شیطان آگ کا شعلہ ہاتھ میں لئے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قرا ءت کرتے ہوئے ”اَعُوْذُ بِاللّٰہ“پڑھا لیکن شیطان دور نہ ہوا، چنانچہ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کی:یہ کلمات پڑھئے:”اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُ ھُنَّ بَرٌّوَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَایَلِجُ فِیْ الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَاوَمِنْ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ اِلَّا طَارِقًا یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَّارَحْمٰن یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکے کامل کلمات کہ جن سے کو ئی نیک و بد انحراف نہیں کر سکتا ان کے واسطے سے میں اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو زمین میں جاتی ہے اور اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور اس کی طرف چڑھتی ہے اورشب وروز کے فتنوں سے نیز را ت و دن کے حوادثات سے سوائے اس واقعے کے جو بھلائی لائے،اے رحمٰن!“ (1)
جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ کلمات پڑھے تو شعلہ بجھ گیا اور شیطان منہ کے بَل گر پڑا۔
آیت الکرسی پڑھنے کی برکت:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:مجھے خبر دی گئی ہے کہ حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَامحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ایک خبیث جن آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے،لہٰذا جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسترپر تشریف لے جائیں تو آیت الکرسی پڑھ لیا کیجئے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،مکائدالشيطان،۴/ ۵۴۸، حديث:۶۹
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۴۸، حديث:۶۷