مومن اور کافر کے شیطان کی ملاقات:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ مومن کے شیطان اور کافر کے شیطان کی ملاقات ہو ئی۔ کافر کے شیطان کے سر میں تیل لگا ہواتھا، کنگھی کی ہوئی تھی او روہ موٹا تازہ تھا جبکہ مومن کا شیطان دبلا پتلا، بال بکھر ے ہو ئے، گَرد آلود اور ننگا تھا۔ کافر کے شیطان نے مومن کے شیطان سے پوچھا: ”تم اتنے کمزور کیوں ہو؟“اس نے جوا ب دیا:”میں ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوں جو کھانے کے لئے بیٹھتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کانام لیتا ہے اس لئے میں بھوکا رہ جاتا ہوں،پانی پیتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کانام لے کر پیتا ہےاس وجہ سے میں پیاسا رہ جاتا ہوں،لباس پہنتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے لیتا ہے اس سبب سے میرا جسم بھی ننگا رہتا ہے،جب بالوں میں تیل لگاتا ہےتو اللہ عَزَّوَجَلَّ کانام لیتا ہے اور یوں میرے بال بکھرے رہ جاتے ہیں۔“یہ سن کر کافر کا شیطان بو لا:”لیکن میں تو ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوں جو ان کاموں میں سے کچھ بھی نہیں کرتا لہٰذا میں کھانے پینے اور لباس میں اس کا شریک ہوجا تا ہوں۔“
سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی دعا:
حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ فجر کی نماز کے بعداس طرح دعا مانگا کرتے:”اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ سَلَّـطْتَّ عَلَيْنَا عَدُوًّا بَصِيْرًا بِعُيُوْبِنَا يَرَانَا هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا نَرَاهُمْ اَللّٰهُمَّ فَاٰيِسْهُ مِنَّا كَمَا اٰيَسْتَهٗ مِنْ رَّحْمَتِكَ وَقَنِّطْهُ مِنَّا كَمَا قَنَّطْتَّهٗ مِنْ عَفْوِكَ وَبَاعِدْ بَيْنَـنَا وَبَيْنَهٗ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ رَحْمَتِكَ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو نے ہم پر ایسے دشمن کوقابو دیا جو ہما رے عیبوں سے وا قف ہے وہ اور اس کا کنبہ ہمیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!اسے ہم سے اسی طرح مایوس کردے جس طرح تونے اسے اپنی رحمت سے مایوس کیا اور ہم سے اسی طرح ناامید کردے جس طرح تونے اسےاپنے عفو سے ناامید کیا اور ہمارے اور اس کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تونے اس کے اور اپنی رحمت کے درمیان دوری ڈالی ، بےشک تو ہر چیز پر قادرہے۔“
شیطان کی درخواست:
حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ایک روز شیطان مسجد کے راستے پر انسانی شکل میں ملا اور