Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
115 - 1245
 تو ہو گا اور وسوسے بھی آئیں گے مگر شیطان مُستقِل  قدم نہیں جما سکے گا اور اسے ذکرُ اللہ کے ذریعے گزرنے سے روکا جا سکےگا کیونکہ حقیقت ِذکر دل میں اسی وقت جاگزیں ہوتی ہے جب دل کو تقوٰی کےساتھ آبادکرکے بُری صفات سے پاک کردیاجائےورنہذِکْرُاللہمحض وقتی طور پر طاری ہونے والی ایک کیفیت بن جائے گا نہ دل پر اس کا قبضہ ہوپائے گا اور نہ ہی شیطان کا غلبہ دور ہوگا۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (پ۹،الاعراف:۲۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جوڈروالے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
	آیتِ مبارکہ میں اس صِفَت سے متقی لوگوں کوخاص کیا گیا ہے۔
شیطان کی مثال بھوکے کتے کی سی ہے:
	شیطان  کی مثال اس بھوکے کتے کی سی ہے جو تمہارے قریب آتاہے،اگر تمہارے پاس روٹی یا گوشت نہ ہو تو تمہارے دھتکار نے سےہی رک جائے گا اورصرف آواز سے ہی دور چلا جائے گا لیکن اگر تمہارے پاس گوشت ہو اور وہ بھوکا بھی ہو تو وہ گوشت پر جھپٹ پڑے گا صرف دھتکارنےسے نہیں جائے گا،یو ں ہی جو دل شیطان کی غذا سے خالی ہو اس دل سے صرف ذکر کےسبب ہی شیطان بھاگ جاتا ہے لیکن جب شہوت دل پر غالب آکر حقیقتِ ذکر کو دل کے کناروں کی طرف دھکیل دے توانسان کا اپنے دل  کے اندرونی حصے پر قابو نہیں رہتا اور اس پر  شیطان قیام پذیر ہو جا تاہے۔
	جہاں تک نفسا نی  خواہشات  اورمذموم صفات سے خالی متقی حضرات کے دلوں کا تعلق ہے تو ان میں  شیطان خواہشا ت کی وجہ سے نہیں  بلکہ ذکر سے  غفلت  کے باعث آتا ہے پھر جب  یہ حضرات ذکر کی طرف لوٹتے ہیں تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فر ما ن ہے: 
فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾ (پ۱۴،النحل:۹۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تواللہ کی پناہ مانگو شیطان مردودسے۔
	ذکر کے متعلق وارد ہونے والی دیگر آیات و احادیث بھی اس کی دلیل ہیں۔