Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
114 - 1245
گمان رکھا جاتا ہے کیو نکہ سب سے زیادہ متقی،پرہیز گار اور عالم کو  بھی تمام لوگ ایک نظر سےنہیں دیکھتے بلکہ بعض پسندکی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بعض ناپسندنگاہ سے۔ اسی لئے کسی شاعر نے کہا:
وَ عَیْنُ الرِّضَا عَنْ کُلِّ عَیْبٍ کَلِیْلَةٌ	وَ لٰکِنْ عَیْنُ السَّخَطِ تُـبْدِی الْمَسَاوِیَا
	ترجمہ:محبت کی نگاہ ہر عیب کے معاملے میں چشم پوشی سے کام لیتی ہے لیکن نفرت کی نگاہ برائیاں ظاہرکردیتی ہے۔
منافق عُیُوب کی تلاش میں رہتا ہے:
	بد گمانی اورشریروں کی تہمت سے بچناوا جب ہے کیونکہ شریر لوگ ہر ایک سے برا ہی گمان رکھتے ہیں لہٰذا جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ عیب جوئی میں مشغول ہو کر لوگوں کے ساتھ بدگمانی کرتا ہے تو جان لو کہ اس کے باطن میں خباثت بھری ہوئی ہے اور یہ بدگمانی اس کی خباثت ہے جو اس سے ٹپک رہی ہے اورجیسا وہ خود ہوتاہےدوسرے کو بھی ویسا ہی سمجھتا ہے۔ مومن عذر ڈھونڈتا ہے اور منافق عیوب کی تلاش میں رہتا ہے نیز مومن کا سینہ تمام مخلوق کےمتعلق صاف ہوتا ہے۔
	یہ شیطان کے دل کی طرف داخل ہونے کے بعض راستے تھے۔اگر میں تمام شیطانی راستوں کا احاطہ کرنا چاہوں تو نہیں کر سکتا،البتہ ذکر کردہ راستوں کی مدد سے دوسروں پر آگا ہی حاصل ہوجائے گی۔ انسان میں جوبھی مذموم صفت ہے وہ شیطان کا ہتھیار اور اس کے داخل ہونے کے راستوں سے ایک راستہ ہے۔
ذکر کس دل پر اثر کرتا ہے؟
	سوال:اگر تم کہو کہ شیطان کو بھگا نے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے،کیا ذکرُاللہ کرنا اور لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھنا اس کے لئے کافی ہے؟
	جواب:جان لو کہ اس سلسلے میں دل کاعِلاج یہ ہے کہ ان صِفات مَذمُومہ سے دل کو پاک کرکے شیطان کے داخل ہونے کے راستوں کو بند کر دیا جائے اور ان صِفات مذمُومہ سے دل کی تَطْہِیر  کا بیان طویل ہے اور کتاب کے اس رُبْع میں ہماری غرض صِفاتِ  مُہْلِکہ کے علاج کا بیان ہے اور ہر صفت ایک مستقل باب کی محتاج ہے جیسا کہ عنقریب ان کی وضاحت آئے گی۔ ہاں!جب ان صفات کی جڑیں دل سے ختم ہو جائیں گی تو دل میں شیطان  کاگزر