Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
113 - 1245
 اور اس طرح وہ ہلاک ہوجا تا ہے یا پھر اسے اس کےحقوقِ واجِبہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنےیااس کا احترام نہ کرنے، اس کی طرف حقارت سے دیکھنے اور خود کو اس سے بہتر سمجھنے پر ابھارتا ہے اوریہ تمام چیزیں ہلا کت میں ڈالنے والی ہیں۔ اسی وجہ سے شریعت نے  خود کوتہمت کے لئے پیش کر نے سے منع کیا ہے۔ چنانچہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فرمایا:”اِتَّقُوْا مَوَاضِعَ التُّھَم یعنی تہمت کی جگہوں سے بچو۔“(1)
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی اس معاملے میں محتاط رہتے۔
کہیں شیطان تمہارے دل میں وسوسہ نہ ڈالے:
	مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا صَفِیَّہ بنْتِحُیَیْ بن اَخْطَبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اِمام زَیْنُ الْعابِدِین حضرت سیِّدُنا علی بن حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بتایا کہ حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں مُعْتَکِف تھے، میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئی،آپ سے گفتگو کی،شام کے وقت  جب میں واپس جانےلگی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے ساتھ چلنے لگے۔ دو انصاری صحابہ کا آپ کے پاس سے گزر ہوا،انہوں نے آپ کو سلام کیا،جب وہ واپس جانے لگے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں آواز دی اور ارشاد فرمایا:”یہ(میری زوجہ)صَفِیَّہ بنْتِ حُیَیْ ہیں۔“ انہوں نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم توآپ کے بارے میں خیر کا ہی گمان کرتے ہیں۔“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:”شیطان ابنِ آدم کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہو ا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں  کوئی وسوسہ نہ ڈال دے۔“(2)
	غور کرو کہ دوجہاں کے تاجور،سلطان بحر و بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےان کے دین کی حفاظت کی خاطر کس طرح  ان  دونوں پر کمالِ شفقت فرماتے ہوئے (شیطان مردودکے ہتھکنڈوں سے)ان کو بچایا اوراپنی  امت پر لُطْف و مہربانی فرماتے ہوئے کیسےانہیں تہمت سے بچنے کا طریقہ ارشا د فرمایاتاکہ متقی و پرہیز گار اور دینی حوالے سے معروف عالم اپنے بارے میں غفلت نہ برتے اور ازراہِ تکبُّر یہ نہ کہے کہ  میرے جیسے لوگوں کے ساتھ اچھا ہی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…التفسيرالکبيرللرازی،پ۲۰،سورة القصص:۲۵،۸/ ۵۹۰
2… بخاری،کتاب الاعتکاف،باب زيارة المرأة ...الخ،۱/ ۶۶۹، حديث:۲۰۳۸