ہے: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ نے۔“ پھر شیطان پوچھتا ہے:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کو کس نے پیدا کیا ہے؟“جب تم میں سے کسی کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئےتو وہ یوں کہے:”اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِه یعنی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔“اس سے یہ وسوسہ دور ہوجائے گا۔(1)
عوام پر لازم چند امور:
حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس قسم کے وسوسوں کو سُلجھانے کے لئے غور وفکر کا حکم نہیں دیا کیونکہ اس طرح کے وسوسے عوام کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں نہ کہ علما کے دلوں میں۔ عوام پر صرف یہ لازم ہے کہ وہ ایمان لائیں،سَر تسلیم خم کریں،اپنی عبادت اوراسبابِ زندگی میں مصروف رہیں اورعلم کو علما کے لئے چھوڑ دیں۔ عام انسان کے حق میں زنا اور چوری کرنا علمی گفتگو کرنے سے بہتر ہےاس لئے کہ جوشخص علم میں پختگی حاصل کئے بغیر اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اپنے دین کے متعلق گفتگو کرتا ہےوہ کفر میں پڑ جاتا ہے اور اسے پتہ تک نہیں چلتا، یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص تیراکی سیکھے بغیر سمندر میں کود پڑے۔
عقائد ومذاہب کے سلسلے میں شیطان کے فریب اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا اور جو کچھ ہم نے اس ضمن میں عرض کیا ہے وہ ان فریب کاریوں کا ایک نمونہ ہے۔
بعض گمان گناہ ہیں:
بدگمانی: شیطان کےبڑےدروازوں میں سے ایک دروازہ مسلمانوں کے بارے میں بد گمانی کرنا بھی ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶،الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتاہے۔
تہمت کی جگہوں سے بچو:
جوشخص گمان کی بنیاد پر دوسرے کے برا ہونے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو شیطان اسے اس کی غیبت پر ابھا رتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمد بن حنبل،مسندالسيدة عائشة رضی الله عنها،۱۰/ ۱۱۴، حديث:۲۶۲۶۳