شیطان کی بہت بڑی چال:
شیطان کی ایک بہت بڑی چال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو اپنے نفس سے غافل کرکے لوگوں کے معاملات میں مشغول کردیتا ہے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :کچھ لو گاللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھے تو شیطان انہیں مجلس سے اٹھانے اور متفرق کرنے کے لئے ان کے پاس آیا لیکن نا کام ہوگیا، پھر اس مجلس کے قریب موجود دیگر کچھ لوگوں کے پاس گیا جو دنیاوی باتوں میں مشغول تھے اور ان کے درمیان فساد پیدا کردیا، چنانچہ وہ آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے، ذکر کرنے والے اٹھ کر ان کے درمیان صلح کرو انے میں مشغول ہوگئے اوراپنی مجلس سےجدا ہو گئے۔ شیطان بھی یہی چاہتا تھا۔
عام لوگوں کے خلاف شیطان کی چال:
عوام کو دھوکے میں مبتلا کرنا: شیطان کےبڑےدروازوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دینی علم میں پختگی حاصل نہ کرنے والے عام لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات وصفات اور اُن امور میں غور و فکر کرنے پر ابھارتا ہے جن تک ان کی عقلوں کی رسائی نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ انہیں اصْلِ دین کے بارے میں ہی شک میں مبتلا کر دیتا ہے یا ان کے دلوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں ایسے خیالات ڈال دیتاہے جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ پاک ہےاور یوں وہ کافر یا بدمذہب ہو جاتے ہیں اور حال یہ ہوتا ہے کہ دل میں پیدا ہونے والے خیال کے سبب وہ انتہائی فرحت و سُرور محسوس کرتے ہیں اور پھولے نہیں سماتےاور اسے معرفت و بصیرت گمان کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان پر یہ بات ذہانت اور عقل کی زیادتی کے باعث منکشف ہوئی ہے۔ پس سب سے زیادہ بے وقوف وہ شخص ہےجو اپنی عقل پر سب سے زیادہ اعتماد کرے اور سب سے زیادہ پختہ عقل وہ شخص ہےجو اپنے نفس پر سب سے زیادہ تہمت لگا ئے اور علمائے کرام کی طرف بکثرت رجوع کرے۔
حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ حضورنبیّ اَکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:شیطان تم میں سےکسی کے پاس آکرپوچھتا ہے:”تجھے کس نے پیدا کیا؟“وہ جواب دیتا