Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
110 - 1245
جھوٹے مقلِّدین:
	جو شخص بھی کسی امام کے مذہب کی تقلید کا دعوٰی کرتا ہے لیکن ان کی سیرت پر نہیں چلتا کل قیامت میں وہی امام اسے جھٹلائیں گے اور کہیں گے کہ میرا مذہب  توعمل تھا نہ کہ فقط زبانی گفتگو اور زبانی گفتگو بھی بےفائدہ نہ تھی بلکہ عمل کے لئے تھی، کیا وجہ ہے کہ تم نے عمل اور سیرت کے معاملے میں میری مخالفت کی؟ حالانکہ یہی میرا مذہب ومسلک تھا اور میں مرتے دم تک اسی پر چلتا رہا۔ تم میرے مذہب کی تقلید کا جھوٹا دعوٰی کرتے رہے۔
	یہ شیطان کا بہت بڑا داخلی راستہ ہے،اس کے سبب شیطان بہت سو ں کو ہلاک کرچکا ہے۔
شیطان کے نائبین:
	مدارِس ایسے لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے گئے جن میں خوفِ خدا اور دینی بصیرت کم ہے،دنیا کی طرف رغبت زیادہ ہے اور اپنی پیروی کروانے کی حرص شدید ہے۔ تَعَصُّب کی بنا پر ہی انہوں نے لوگوں کو اپنے  پیچھے چلایا اور ان کے دلوں میں اپنی بز رگی کا سکہ بٹھایا لیکن اس بات کو اپنے سینوں میں چھپائے رکھا اور اس کے متعلق شیطان کے مکرو فریب سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے بجائے اس کے مکرو فریب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خود شیطان کے نائب بن گئے اور لوگ ان کی پیروی کے سبب  دین کی بنیادی چیزوں کو بھول گئے۔ چنانچہ یہ لوگ خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کر دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی اور ہماری توبہ قبول فرمائے۔
نفسانی خواہشات کی پیروی گناہ تک لے جاتی ہے:
	حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:ہم تک یہ بات پہنچی ہے  کہ ابلیس نے کہا:میں نےاُمَّتِ محمدیہ کے  سامنے گناہوں کو اچھی شکل میں پیش کر کے ان پر اُ کسایاتواس نے استغفار کےذریعے میری کمر توڑ دی،اس کے بعدمیں نےان گناہوں کو سجا سنوار کر پیش کیا جن کی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی نہیں مانگتے اور وہ گنا ہ نفسانی خواہشات کی پیروی ہیں۔
	ملعون نے سچ کہاکیو نکہ جب تک لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو گا  کہ نفسا نی خواہشات کی پیروی بھی گناہ تک پہنچنے کا ایک سبب ہے  تو وہ اس سے کیسے استغفار کریں گے؟