Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
109 - 1245
اپنی جانوں سے زیادہ شریعت سے محبت:
	سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی کسی کے محبوب  بچے،اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کےجگر کے ٹکڑے کو پکڑ کر خوب مارے، اس کے بالوں کو نو چےاور قینچی سے کاٹ ڈالے اس کے باوجود اس کے باپ سےمحبت اور دوستی کا دعوٰی کرے تواس کے باپ کے ہاں اس کی کیا حیثیت ہو گی؟
	اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق، حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم، حضرت سیِّدُنا عثمان غنی، حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی اور دیگرتمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواپنی اولاد،گھربار بلکہ اپنی جانوں سے زیادہ دین اور شریعت سے محبت تھی اور شریعت کی نافرمانی کرنے والے ہی شریعت کے ٹکڑے کرتے اور خواہشات کی قینچی سے اسے کاٹتے ہیں اور ان کاموں کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس  کےاولیاکے دشمن ابلیس کے محبوب بنتے ہیں۔ تم غور کرو  کہ قیامت کے دن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے ملاقات کے وقت ان کی کیا حالت ہو گی؟بلکہ اگر(دنیا ہی میں) پردہ اُٹھ جائے اور یہ لوگ جان لیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت کو کیسا دیکھنا پسند کر تے ہیں تو اپنے برے افعال کے سبب ان نُفُوسِ قُدسِیہ کا ذکر اپنی زبانوں پر لانے سے بھی حیاکریں۔
	پھر شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو شخص حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی محبت میں مرے آگ اس کے قریب بھی نہیں آئے گی  اور دوسرے کے دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ جوحضرت علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی محبت میں مرے گااس پر کوئی خوف نہ ہوگا۔ حالانکہ رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی حضرت سیِّدَتُنافاطمۃُ الزّہراءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا: ”اِعْمَلِیْ فَاِنِّیْ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یعنی  نیک عمل کر تی  رہو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے تمہیں نہیں بچا سکتا۔“(1)
	ابھی جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ نفسانی خواہش کی پیروی کرنے والوں کی مثال تھی، یہی حکم حضرت سیِّدُنا امام شافعی،حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ،حضرت سیِّدُنا امام مالک اورحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل وغیرہ ائمہرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی محبت میں مُتَعَصِّب لوگوں کا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الوصايا،باب ھل یدخل النساء…الخ،۲/ ۲۳۸، حديث:۲۷۵۳