خامیوں کو ذکر کرنے میں مشغول ہونا انسان کی فطرت میں داخل ہےاور یہ درندہ صفات میں سے ایک ہے،پھر جب شیطان دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ یہی حق ہے اور یہ انسان کی فطرت کے بھی موافق ہے، لہٰذا اس کی مٹھاس دل پر غالب آجاتی ہے، چنانچہ انسان پوری تو جہ اور دلچسپی کے ساتھ اس میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس کے سبب خوشی اور فرحت محسوس کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ دین کے لئے کوشش کررہا ہےجبکہ وہ توشیطان کی پیروی میں کوشاں ہو تا ہے۔
عاشق اکبر سے محبت کا دعویدار کیا ایسا ہوتاہے؟
تم دیکھو گے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی محبت میں متعصب ہے لیکن حرام بھی کھاتا ہے، فضول گفتگو اور جھوٹ کے لئے اپنی زبان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور طرح طرح کے فساد میں مبتلا ہے۔اگر حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے دیکھتے تو سب سے پہلے اسے اپنا دشمن تصور کرتے کیونکہ ان کے دوست تو وہ ہیں جو ان کے راستے پر چلتے ہیں،ان کی سیرت کو اپناتے ہیں اور اپنی زبان کی حفاظت کرتے ہیں۔آپ کی سیرت تو یہ تھی کہ آپ اپنی زبا ن کو بے فائدہ گفتگو سے بچانے کے لئے اپنےمبارک منہ میں پتھر رکھتے تھےتو فضول باتیں کرنے والا کس طرح آپ سے دوستی اور محبت کا دعوی کرتا ہے حالانکہ آپ کی سیرت کو اپناتا نہیں۔
مولیٰ مشکل کشا کی محبت کا جھوٹا دعو یدار:
تم ایک اور فضول گو کو دیکھوگے کہ وہ حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی محبت میں متعصب ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا زہداور آپ کی سیرت تو یہ تھی کہ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں تین درہم کے عوض خریدا ہو ا کپڑا پہنا اور آستینیں لمبی ہونے کی وجہ سے کلائیوں تک کاٹ دیں جبکہ تم اس فاسق کو دیکھو گے کہ ریشمی کپڑے پہنتا ہے، حرام کی کمائی سے زیب وزینت اختیار کرتا ہےاور پھر شیرِ خدا سے محبت کا دعوٰی کرتا ہے حالانکہ قیامت کے دن آپ سب سے پہلے اسی کو جھٹلائیں گے۔