مشورہ دیتا رہے گا۔ اگر یہ پتھرنہ ہوتاتو نہ اس کے دل میں اسے تکیہ بنانے کا خیال آتااور نہ ہی اس کا دل نیند کی طرف راغب ہوتا۔ یہ تو پتھر کا معاملہ ہےلیکن جس کے پاس نرم وملائم قالین،بستراورعیش وعشرت کا سامان ہو اس کی حالت کیا ہو گی اور وہ کب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے تیار ہوگا!
بخیلوں کے لئے دردناک عذاب کا وعدہ ہے:
بخل اور فقر کا خوف: شیطان کےبڑےدروازوں میں سےبخل اور فقر کا خوف بھی ہےکیو نکہ یہ دونوں چیزیں انسان کو راہِ خدا میں خرچ کرنے اور صدقہ کر نے سے روکتی ہیں اور ذخیرہ اندوزی کرنے اور مال جوڑ کر رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے قرآن کریم میں درد ناک عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔(1)
شیطان تین باتوں سے باز نہیں آتا:
حضرت سیِّدُنا خَیْثَمَہ بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں کہ شیطان کہتا ہے:”ابن آدم مجھ پر کتنا ہی غلبہ پالے مجھے تین باتوں سے نہیں روک سکتا:(۱)میں اسے ناحق مال لینے (۲)حقدار کے علاوہ پر خرچ کرنے اور (۳)حق دار کونہ دینے کا کہتا رہتا ہوں۔“
شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار:
حضرت سیِّدُناسُفْیان ثَوْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:شیطان کے پاس فقر کا خوف دلانے جیسا کوئی ہتھیار نہیں ہے کیو نکہ جب کسی شخص کو فقر کا خوف لاحق ہوجاتا ہے تو وہ باطل میں مشغول ہوکر حق سے رک جاتا ہے، خواہش کے مطابق کلام کرتا ہے اور اپنے رب کے بارے میں برا گمان رکھتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾ (پ۱۰،التوبة:۳۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔اس کی تفسیر میں صدرالافا ضل حضرت مفتی سیِّدمحمدنعیم الدین مرادآبا دیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جب کہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت طلحٰہ وغیرہ اصحاب مالدار تھے اور جو اصحاب کہ جَمْعِ مال سے نفرت رکھتے تھے وہ ان پر اعتراض نہ کرتے تھے۔