Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
105 - 1245
مزید 900دینارکا محتاج ہوگیااوران میں سے ہر چیزاپنی مناسبت کے اعتبار سے دوسری چیز کا تقاضا کرتی ہے اور یوں یہ سلسلہ  چلتارہے گا یہاں تک کہ وہ جہنم کے آخری اور انتہائی گہرے طبقے ”ہاوِیہ“ میں جا گرے۔
مال کے ذریعے شیطان  اپنا مقصد پالیتا ہے:
	حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتے ہیں کہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مبعوث ہوئے تو ابلیس نے اپنے چیلو ں سے کہا:”ایک عظیم واقعہ رونما ہوچکا ہے،جاؤ دیکھو وہ کیا ہے۔“چنانچہ وہ معلومات کے لئے گئے لیکن ناکام لوٹ آئے اورکہنے لگے:”ہمیں کچھ پتا نہیں چلا۔“ ابلیس نے کہا:”میں خبر لے کر آتا ہوں۔“ چنانچہ وہ گیا اور واپس آکر کہنےلگا:”محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) مبعوث ہوچکے ہیں۔“ پھر اس نے اپنے چیلوں کو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف بھیجا لیکن وہ ناکام و نامراد واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے:”ہم ان جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں رہے،ہم ان سے غلطی  توکروا دیتے ہیں لیکن جب وہ نما زکے لئے کھڑے ہو تے ہیں تو ان کی خطائیں مٹادی جاتی ہیں۔“ اِبلیس بولا:”انتظار کرو عنقریب اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے لئے دنیا(کے خزانے)کھول دے گاتب ہم ان سے اپنےمقصد کو پالیں گے۔“(1)
سر کے نیچے رکھا پتھر بھی پھینک دیا:
	منقول ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام پتھرپر سر رکھ کر آرا م فرما رہے تھے، وہاں سے شیطان کا گزر ہوا تو اس نے کہا:”اے عیسیٰ!تم بھی دنیاکی طرف راغب ہوگئے؟“ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سر کے نیچے سے پتھر نکال کر اس کی طرف پھینک دیااور فرمایا:”دنیا کے ساتھ ساتھ یہ بھی تیرے لئے ہے۔“
نرم بستر پر رات بسر ہو تو عبادت کیسے ممکن ہے......!
	حقیقت یہ ہے کہ جس کے پاس ایساپتھر ہو جسے نیند کے وقت تکیہ بنایا جا سکتا ہے تو ایسا شخص بھی دنیا کی اتنی مقدار کا مالک ہے جس کے ذریعے شیطان اپنا وار کر سکتا ہے۔ مثلاً رات کو نماز پڑھنے والے کے قریب کوئی ایسا پتھر رکھا ہو جسے تکیہ بنایا جاسکتا ہے توشیطان  اسےبار بار سونے اور اس پتھر کو سر کے نیچے رکھنے کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۳۹، حديث:۳۸ باختصار