جلد با زی سے ممانعت کی وجہ:
جلدبا زی سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ کاموں کواس وقت کرنا چاہئے جب ان کے بارے میں اچھی طرح سمجھ بو جھ اور ان کی پہچان حاصل ہوجائےاورسمجھ بو جھ کے لئے غور وفکر اور بُردباری کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ جلدبازی ان سے روکتی ہے اور جلدباز شخص کو شیطان اس طرح برائی میں دھکیل دیتا ہے کہ اسے پتا تک نہیں چلتا۔
جلدبازی شیطان کا ہتھیار ہے:
منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی ولادت ہوئی تو شیاطین نے اپنے سردار ابلیس کےپاس آکرخبر دی کہ بت سرکے بل گر پڑے ہیں۔ ابلیس نے کہا:”معلوم ہو تا ہے کہ آج کوئی عظیم واقعہ رونما ہوا ہے،تم یہیں ٹھہرو!میں معلوم کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس نے مشرق و مغرب کا چکر لگایا مگر کچھ پتا نہ چلایہاں تک کہ وہ حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُ اللہعَلَیْہِ السَّلَام کی جائےولادت پر پہنچا اور دیکھا کہ فرشتے آپ کو جھرمٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ ابلیس واپس شیاطین کے پاس گیا اور کہنے لگا: ”گزشتہ رات ایک نبی کی ولا دت ہوئی ہے،جب بھی کوئی عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی ہے تو میں وہاں موجود ہوتا ہوں مگر ان کی پیدائش کا مجھے علم نہ ہو سکا لہٰذا اس رات کے بعد بتوں کی عبادت سے ناامید ہوجاؤلیکن انسان کے لئے اپنا ہتھیار جلدبازی کو بناؤ۔
جنہم کے طبقے ”ہاویہ“ میں کون؟
مال ودولت: شیطان کےبڑےدروازوں میں سے دراہم ودیناراور دیگر اموال یعنی سامان،سواریاں اور جائیداد بھی ہیں۔ جو چیزبھی ضرورت اور حاجت سے زائد ہو وہ شیطان کا ٹھکانا ہے کیونکہ جس کےپاس بدن کی بقا کے لئے ضروری اشیائے خوردنی ہوں اس کا دل فکر معاش سے فارغ ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اگر راستے میں 100دینار مل جائیں تو اس کے دل میں 10خواہشات پیدا ہوجائیں گی، پھرہر خواہش پوری کرنے کے لئےمزید 100دینار کی حاجت ہوگی، اس طرح یہی 100دینا ر اسے کا فی نہیں ہوں گے بلکہ مزید 900 کی ضرورت پیش آئے گی حالانکہ 100دینار پانے سے پہلے وہ مستغنی تھا۔ اب جبکہ اس کے ہاتھ 100دینار لگ گئے ہیں تواس نے یہ گمان کر لیا کہ وہ غنی ہو گیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ گھر خرید کر اسے تعمیر کرنے،لونڈی ،گھر کا ساز وسامان اور عمدہ ملبو سات خریدنے کے لئے