کے لئے ہر راستے پر چل پڑتا ہے اور اس کی کم سےکم حالت یہ ہوتی ہے کہ یہ جھوٹی تعریف کرتا ہے اور اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر ترک کرتے ہوئے اس کے سامنےمُداہَنت سے کام لیتا ہے(یعنی حق بات چھپاتا ہے)۔
جس کی طمع کی جاتی ہو مخلوق سے اس کا سوال مت کرو:
حضرت سیِّدُنا صفوان بن سُلَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ شیطان حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حَنْظَلَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیا اور کہنے لگا:”اے ابنِ حَنْظَلَہ!میں تمہیں کچھ سکھاتا ہوں اسے یاد کرلو۔“ آپ نے فرمایا:”مجھے اس کی حاجت نہیں۔“ شیطان نے کہا:”سن تو لو! اگر بات اچھی ہو توقبول کرلینا اور بری ہو تو رد کردینا۔“ پھر اس نے کہا:”اےابنِ حَنْظَلَہ! جس چیز کی طمع کی جاتی ہو اس کا سوال اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی سے نہ کرو اور جب تم غصے میں ہو تو اپنی کیفیت پر غور کیا کرو کیونکہ اس وقت میں تم پر قابو پالیتا ہوں۔“
جلد بازی کی ممانعت قرآن سے:
جلدبازی: شیطان کے بڑےدروازوں میں سے جلدبازی کرنا اور غور وفکر چھوڑ دینا بھی ہے۔ چنانچہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَلْعَجَلَةُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَالتَّأَنِّیْ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی یعنی جلد بازی شیطان کی طرف سے اور بردباری اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے ہے۔“(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
خُلِقَ الْاِنۡسَانُ مِنْ عَجَلٍ ؕ (پ۱۷،الانبیآء:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:آدمی جلدبازبنایاگیا۔
نیز ارشاد فرما تا ہے:
وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آدمی بڑاجلدبازہے۔
اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ارشاد فرمایا:
وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یُّقْضٰۤی اِلَیۡکَ وَحْیُہٗ ۫ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اورقرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی،کتاب البروالصلة،باب ماجاء فی التأنی والعجلة،۳/ ۴۰۶،حديث:۲۰۱۹