زیادہ کھانے کی چھ آفتیں:
منقول ہے کہ زیادہ کھانے میں چھ خرابیاں ہیں:(۱) دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف نکل جاتا ہے (۲)دل میں مخلوق کے لئے کچھ باقی نہیں رہتا کیونکہ وہ سبھی کو پیٹ بھرا گمان کرتا ہے (۳)عبادت بوجھ محسو س ہو نے لگتی ہے (۴)علم وحکمت کی با ت سن کر دل میں رقت پیدا نہیں ہوتی (۵)خودحکمت ونصیحت کی بات کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہیں ہوتا اور (۶)اس کے سبب کئی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
کفر پر خاتمے کا اندیشہ:
اشیاء کی تزیین وآرائش:شیطان کے دروازوں میں سےگھریلو سازوسامان، کپڑوں اور مکان کی سجاوٹ کی محبت بھی ہے۔ چنانچہ شیطان جب کسی شخص کے دل پر اِسے غالب دیکھتا ہے تواس کے دل پرڈیرہ جما لیتا ہے اوّلاً اسے مکان کی تعمیر،اس کی چھت اور دیواروں کی آرائش اور عمارت کھڑی کرنے میں مصروف رکھتا ہے، پھر لباس اور سواری کی زیبائش میں لگادیتا ہے اور ان کاموں میں طویل عمر لگائے رکھتا ہے۔
جب یہ خواہشات انسان کےدل میں اچھی طرح گھر کر جاتی ہیں تو شیطان کو دوبارہ اس کے پاس آنے کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ ان میں سے بعض کام خود ہی دوسرے کاموں کی طرف لے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس موت کا پیغام آ جاتا ہے اور شیطان کے راستے پر چلتے ہوئے اور نفسانی خواہشات کی اتباع کرتے ہوئے اس کا انتقال ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق اندیشہ ہے کہ کفر میں جاپڑے اور اپنی آخرت برباد کربیٹھے۔
لالچی شخص کا معبود:
لالچ: شیطان کے بڑےدروازوں میں سے لوگوں سے لالچ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جب طمع دل پر غالب آجاتی ہے تو مالدار اور منصب پر فائز شخص کے دل میں بھی شیطان ریا اور فریب کی مختلف قسموں کے ذریعے بناوٹ اور زینت کا اظہار کرنے کی محبت ڈال دیتا ہےیہاں تک کہ جس شخص سے اسے لالچ ہوتی ہے وہ گویا اس کا معبود بن جاتا ہے۔ پھر یہ اس سے دوستی کرنے اور اس کا محبوب بننے کی فکر میں لگا رہتا ہے اور اس تک پہنچنے