Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
101 - 1245
 کہا:”میں آپ کے اصحاب کے دلوں کو لینے کے لئے داخل ہوا ہوں تاکہ ان کے دل میرے ساتھ ہوں اور بدن آپ کے ساتھ۔“آپعَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:”اے دُشْمَنِ خدا!نکل جا یہاں سے، یقیناً تو مردود ہے۔“شیطان بولا:”پانچ چیزوں کے ذریعےمیں  لوگوں کو ہلاک کرتا ہوں،ان میں سےتین چیزیں آپ کو بتاتا ہوں لیکن دو نہیں بتاؤں گا۔“اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ان تین چیزوں کی آپ کو حاجت نہیں ہے  آپ اس سے دوسری دو معلوم  کیجئے!چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے فرمایا:”وہ دو چیزیں کیا ہیں؟“اس نے کہا: ”دو چیزیں ایسی ہیں نہ تو مجھے جھٹلاتی ہیں اور نہ ہی میرے خلاف جاتی ہیں، ان کے ذریعے میں لوگوں کوہلاکت میں ڈالتا ہوں اور وہ دو چیزیں حرص اور حسد ہیں۔ حسد کی وجہ سے مجھ پر لعنت کی گئی اور مجھے شیطان مردود کہا گیا اور جہاں تک حرص کا تعلق ہے تو آدم کےلئے ایک درخت کے علاوہ ساری جنت مباح تھی لیکن حرص کے سبب میں نے آدم سے(ان کی اہلیہ حوا کے ذریعے)اپنا مقصد پورا کرلیا۔“
پیٹ بھر کر کھانا:
	شیطان کے بڑے دروازوں میں سےپیٹ بھر کر کھانا بھی ہے،اگر چہ وہ حلال اور شبہ سے پاک ہو کیونکہ سیر ہو کرکھانے سے شہوات کوتقویت ملتی ہےاور شہوات شیطان کے ہتھیارہیں۔
شہوات کے جال:
	منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت  سیِّدُنا یحییٰ بن زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے سامنے شیطان ظاہر ہوا، آپ نے اس کے پاس بہت سے جال دیکھ کر اِسْتِفْسارفرمایا:”یہ جال کیسے ہیں؟“اس نے جواب دیا:”یہ شہوات کے جال ہیں جن سے  میں انسانوں کا شکا ر کر تا ہوں۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا:”کیا مجھے پھانسنےکے لئے بھی ان میں سے کوئی جال ہے؟“اس نے کہا:”ایک دفعہ آپ نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھاتو میں نے آپ پر نماز اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر بھاری کردیاتھا۔“آپ نے پوچھا:”کیااس کے علاوہ بھی ہے؟“اس نے کہا: ”نہیں۔“آپ نے فرمایا:”خدا عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!آئندہ میں کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھاؤں گا۔“ شیطان  بولا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں بھی  آئندہ کبھی کسی مسلمان کونصیحت  نہیں کروں گا۔“