شیطان ابن آدم پر کیسے غلبہ پا تا ہے؟
منقول ہے کہ کسی نیک بندے نے ابلیس سےکہا:”مجھے بتا کہ تو ابنِ آدم پر کیسے غلبہ پا تا ہے؟“ اس نے کہا:”میں غصے اور دنیا کی طرف میلان کے وقت اس پر غالب آجاتا ہوں۔“
بیان کیا جاتا ہے کہ ابلیس ایک راہب کے سامنے ظاہر ہواتوراہب نے اس سے پوچھا:”ابن آدم کی کون سی صفت اس پر قا بو پانے میں تمہارے لئے زیادہ معاون ثابت ہوتی ہے؟“ابلیس نے کہا:”سخت غصہ کیو نکہ جب وہ سخت غصہ میں ہوتا ہے تو میں اسے اس طرح اُلٹ پلٹ کرتا ہوں جس طرح بچے گیند کو کرتے ہیں۔“
منقول ہے کہ شیطان کہتا ہے:ابن آدم مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے حالانکہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو میں اس کے دل میں داخل ہو جاتا ہوں اور جب اسے غصہ آتا ہے تو میں اُڑ کر اس کے سر پر چڑھ جاتا ہوں۔
حِرص اور حسد نورِ بصیرت زائل کردیتے ہیں:
حرص اور حسد:شیطان کے بڑے دروازوں میں سےحرص اورحسد بھی ہیں۔ جب بندہ ہر چیز کا حریص ہو تا ہے تواس کی حرص اسے اندھا اور بہرا کردیتی ہے کیونکہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشا د فرمایا:’’حُبُّـکَ الشَّیْ ءَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ یعنی کسی چیز سے تیری محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔‘‘(1)
نورِ بصیرت کہ جس کے سبب شیطان کے داخلی راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے حرص اور حسد اس نور کو زائل کردیتے ہیں اور شیطان موقع پاکرحریص کے دل میں ہر اس چیز کی محبت ڈال دیتا ہے جو اسے اس کی خواہش تک پہنچادے اگر چہ وہ چیز بری اور مذموم ہو۔
شیطان کے وفادار ہتھیار:
منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا نوح نَجِیُّ اللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کشتی میں سوار ہوئے اورآپ نےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے مطابق اس میں ہر جنس میں سے ایک جوڑے نَر و مادہ کوسوار کرلیاتو ایک اجنبی بوڑھے کو بھی کشتی میں بیٹھا دیکھا،آپعَلَیْہِ السَّلَام نے اس سےپوچھا:”تم کیوں داخل ہوئے ہو؟“اس نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الهوی،۴/ ۴۳۰،حديث:۵۱۳