Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
99 - 1087
 میں غور کرلو کہ تم قیامت کے دن محض علما کے گروہ میں شامل ہونا چاہتے ہو یا عاملین کے گروہ میں یا دونوں کے۔ پس تم ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنا حصہ تقسیم کرلو یہ تمہارے لئے محض شہرت کے لئے پیروی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ جیساکہ کسی نے کیاخوب کہا ہے:
خُذْ مَا تَرَاہُ وَدَعْ شَیْئًا سَمِعْتَ بِہٖ		فِیْ طَلْعَۃِ الشَّمْسِ مَا یُغْنِیْکَ عَنْ زُحْلٍ
	ترجمہ: جسے تم دیکھتے ہو اسے اختیار کرو اور جو سنتے ہو اسے چھوڑ دو سورج طلوع ہے تو زُحل(سیارے) کی کیا حاجت ہے۔
	اب میں فقہائے سلف کی سیرت کے چند وہ گوشے بیان کروں گا جن سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن لوگوں نے خود کو ان کے مذہب کی طرف غلط منسوب کر رکھا ہے انہوں نے ان پر ظلم کیا ہے اور بروزِ قیامت یہ ان کے سخت مخالف ہوں گے کیونکہ علم سے ان کا مقصود محض رِضائے الٰہی کا حصول تھا اور ان کے جو اَحوال معلوم ہوئے ہیں وہ ہیں جو علمائے آخرت کی علامات میں سے ہیں جیسا کہ علمائے آخرت کی علامت کے باب میں بیان ہوگا۔ انہوں نے اپنے آپ کو محض علمِ فقہ میں نہیں لگا رکھا تھا بلکہ وہ علمِ قلوب میں بھی مشغول تھے اور ان کی نگرانی کرتے تھے لیکن انہیں اس علم کی تدریس وتصنیف سے اس چیز نے روک رکھا تھا جس نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو فقہ سے باز رکھا تھا حالانکہ وہ علمِ فتویٰ میں کامل فقہا تھے۔ موانع وبواعث یقینا ًہوتے ہیں انہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔
	اب میں فقہائے اسلام کے وہ احوال بیان کروں گا جن سے تمہیں معلوم ہوگا کہ ہمارا بیان کردہ کلام ان پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر طعن ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ان کی پیروی میں مشہور کر رکھااور ان کے مذہب ومسلک کی طرف منسوب کر رکھا ہے حالانکہ وہ اعمال وسیرت میں ان سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں ۔
مقتدا و پیشوا فقہا:
 	وہ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام جو فقہ کے امام اور مخلوق کے مقتدا وپیشوا ہیں یعنی جن کے مذاہب کے پیروکار کثیر ہیں ،پانچ ہیں :(۱)… حضرت سیِّدُناامام محمد بن ادریس شافعی (۲) …حضرت سیِّدُنا امام مالک (۳)… حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل (۴)…حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ اور (۵)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ ان میں سے ہر ایک عابد وزاہد، علومِ آخرت کا عالم، لوگوں کے دنیوی منافع کا فقیہ اور اپنی فقہ سے