شہرت اور فضیلت میں فرق:
شہرت اس میں ہوتی ہے جو ہلاکت وبربادی کا سبب ہوتا ہے اور فضیلت اس کی وجْہ سے ہوتی ہے جو ایک راز ہوتا ہے جس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔
فقہا اور متکلمین کی اقسام:
فقہا اور متکلمین بادشاہوں ، قاضیوں اور علما کی مثل ہیں اور ان کی کئی اقسام ہیں ۔ بعض کااپنے علم و فتوے سے مقصود اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی حاصل کرنا اورحضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنَّت کی حفاظت کرنا ہوتا ہے وہ نہ رِیا کاری کرتے ہیں اور نہ ہی شہرت کی خواہش رکھتے ہیں ۔ انہیں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ راضی ہوتا ہے اوریہ بارگاہِ الٰہی میں اس وجْہ سے مقبول ہوتے ہیں کہ اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں اور فتویٰ ودلیل سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی زیادہ خوشنودی چاہتے ہیں ۔
عمل کا دار و مدار نیت پر ہے :
ہر علم عمل ہے کیونکہ علم ایک فعل ہے جسے حاصل کیا جاتا ہے لیکن ہر عمل علم نہیں ۔ طبیب اگررضائے الٰہی کی خاطر کام کرے تواپنے علم سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرسکتا ہے اور اس پر اسے ثواب بھی ملے گا۔ بادشاہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتا ہے وہ بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا پسندیدہ بندہ بن سکتا اور اس کی بارگاہ سے اجر وثواب حاصل کرسکتا ہے اس وجْہ سے نہیں کہ وہ علمِ دین کا ذِمہ دار ہے بلکہ اس وجْہ سے کہ وہ اپنے علم کے مطابق ایسا عمل کرے جس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب مقصود ہو۔
جن اعمال سے قربِ الٰہی حاصل ہوتاہے:
جن اعمال سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل ہوتا ہے وہ تین قسم کے ہیں :(۱)…محض علم: اور یہ علمِ مکاشفہ ہے۔ (۲)…محض عمل: اس کی مثال بادشاہ کا عدل وانصاف کے ساتھ لوگوں کے معاملات کا انتظام کرنا ہے۔ (۳)…علم وعمل کا مرکب: اس سے مراد علمِ طریقِ آخرت ہے کیونکہ ایسا شخص عالم بھی ہوتا ہے اور عامل بھی۔ اب تم اپنے بارے