علم کے دس حصوں میں سے نوحصے اٹھ گئے:
جب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’علم کے دس حصوں میں سے نوحصے اُٹھ گئے۔‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ حضور! یہ آپ کیا فرمارہے ہیں ۔ ہمارے درمیان جلیل القدر صحابہ موجود ہیں ؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں فتویٰ اور احکام کے علم کی بات نہیں کر رہا بلکہ میری مراد معرفت ِ الٰہی ہے۔‘‘ (۱)
تمہارا کیا خیال ہے کہ کیا انہوں نے علمِ کلام وجدل مراد لیا تھا؟ (نہیں ) تو پھر تمہیں کیا ہوا کہ تم اس علم کو جاننے کے حریص کیوں نہیں بنتے جس کے دس میں سے نوحصے وصالِ عمر کے ساتھ رخصت ہوگئے اورامیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تو علمِ کلام وجدل کا دروازہ بند کردیا تھا اور جب حضرتِ ضبیع نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے قرآنِ پاک کی دوآیتوں میں تعارض کے بارے میں سوال کیا توآپ نے انہیں کوڑے سے مارا اور ان سے کلام کرنا بند کردیا بلکہ لوگوں کو بھی اس کا حکم دیا۔
بہرحال تمہارا یہ کہنا کہ علمائے اُمَّت میں سے مشہور فقہا اور متکلمین ہیں تو یہ بات یاد رکھو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں افضل ہونا اور بات ہے اور لوگوں کے درمیان مشہور ہونا اور بات ۔
شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شہرت وفضیلت:
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مشہور تو خلافت کی وجْہ سے ہوئے لیکن افضل اس راز کی وجْہ سے ہوئے جو ان کے دل میں راسخ تھااور امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہرت تو حکومت کی وجْہ سے ہے مگر فضیلت اس علم کی وجْہ سے ہے جس کے دس میں سے نوحصے ان کی وفات کے ساتھ اُٹھ گئے ۔ نیز حکومت اور لوگوں پر عدل وشفقت کرنے سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقصودقربِ الٰہی کا حصول تھااور یہ ایک باطنی معاملہ ہے جو آپ کے دل میں تھا۔ اس وصف کے علاوہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے باقی افعال عزت ونام اور شہرت چاہنے والوں سے بھی صادر ہو سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۸۸۱۰، ج۹،ص۱۶۳، باختصارٍ۔