Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
96 - 1087
 ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو حق کی پہچان بندوں کے ذریعے کرتا ہے وہ گمراہی کے جنگلوں میں بھٹکتا ہے۔ اس لئے اگر تو راہِ حق کا مسافر ہے تو حق کو پہچان اہلِ حق کو بھی پہچان جائے گا اور اگر تو تقلید وپیروی پر قناعت کرتا اور لوگوں کے درمیان فضیلت کے مشہور درَجات کو دیکھتا ہے تو حضراتِ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے بلند مراتب سے بے خبر نہ رہ۔ جن لوگوں (یعنی فقہا ومتکلمین) کا تم نے ذکر کیا ہے وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ حضراتِ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا مقام ومرتبہ سب سے بڑھ کر ہے اور دین میں کوئی ان کے مرتبے کوتو کیا ان کی گردِ راہ کو بھی نہیں پا سکتا۔
صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کی افضلیت کاایک سبب:
	صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْنکوبلند مقام ومرتبہ علم کلام یا علم فقہ کی وجہ سے نہیں بلکہ علم آخرت اور طریقِ آخرت پر چلنے کی وجْہ سے حاصل ہواہے۔امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تمام لوگوں پر نہ تو کثرتِ صوم وصلوٰۃ یا کثرتِ روایت کی وجْہ سے افضل ہوئے اور نہ ہی فتویٰ دینے یا علمِ کلام کی وجْہ سے بلکہ اس چیز کی وجْہ سے افضل ہیں جو ان کے سینے میں راسخ تھی جیسا کہ خود سرورِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات کی شہادت دی۔ (۱)
	لہٰذاتمہیں اس راز کی تلاش و جستجومیں حریص ہونا چاہئے کیونکہ وہ عمدہ جوہر اور چھپا ہوا موتی ہے اور اس چیز کو خود سے دُور کر دو جسے اکثر لوگ متفقہ طور پر کچھ ایسے اسباب اور وجوہات کی بنا پر افضل وعظیم سمجھتے ہیں جن کی لمبی تفصیل ہے۔ بیشک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے وقت ہزاروں صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمتھے جو تمام کے تمام ذات باری تعالیٰ  کی معرفت رکھنے والے تھے۔ ان میں کوئی ایک بھی علمِ کلام کا ماہر نہ تھا اور نہ ہی سوائے دس سے کچھ زائد صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے کسی نے اپنے آپ کو فتویٰ دینے کے لئے مقرر کر  رکھا تھا یہاں تک کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو فرماتے: ’’ فلاں حاکم کے پاس جاؤ جس نے لوگوں کے معاملات کا ذِمہ لے رکھا ہے ۔ یہ بوجھ اسی کی گردن پرڈالو۔‘‘(۲) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قضایا اور احکام میں فتویٰ دینا امورِ سلطنت اور امورِ حاکمیت میں سے ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…المقاصد الحسنۃ،حرف المیم،الحدیث:۹۷۰، ص۳۷۶،باختصارٍ۔ 
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، باب ذکرفضل علم المعرفۃ، ج۱، ص۲۲۸۔