Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
94 - 1087
 بارے میں ڈر ہو کہ وہ اِن سے برے علوم کی طرف چلا جائے گا کیونکہ اِن میں مہارت رکھنے والے اکثر لوگ ان سے نکل کر بدعتوں کی طرف چلے گئے، اس لئے جو کمزور(ایمان والا) ہے اُسے ہندسہ اور حساب سے روکا جائے گا اس لئے نہیں کہ یہ علوم برے ہیں بلکہ جس طرح بچے کو نہر میں گرجانے کے خوف سے نہر کے کنارے کھڑا ہونے سے روکا جاتا ہے اور نومسلم کو کفار کی صحبت سے محض ڈر کی وجْہ سے روکا جاتا ہے اور جو مضبوط(ایمان والا) ہے وہ خود ہی ان سے ملنا اچھا نہیں سمجھتا۔
{2}…منطق: اس میں دلیل و تعریف اور ان کی شرائط سے بحث کی جاتی ہے اور یہ دونوں باتیں علمِ کلام میں داخل ہیں ۔
{3}…الٰہیات: اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات وصفات کے متعلق بحث کی جاتی ہے اور یہ بھی علمِ کلام میں داخل ہے۔ فلاسفہ نے اس کے لئے علم کی علیحدہ قسم نہیں بنائی بلکہ ان کے مذہب الگ الگ ہیں ان میں سے کچھ تو اہلِ کفر ہیں اور کچھ بدعتی ۔ جس طرح اعتزال ایک مستقل علم نہیں بلکہ معتزلین ومتکلمین ہی کا ایک گروہ ہے اور بحث ونظر والوں نے الگ باطل مذاہب بنا لئے ہیں اسی طرح فلاسفہ کا معاملہ ہے۔
{4}…طبیعیات: اس کی بعض قسمیں شریعت اور دین حق کے خلاف ہیں جس کی وجْہ سے وہ علم نہیں بلکہ جہالت ہے۔ لہٰذا انہیں علوم کی اقسام میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ طبیعیات کی بعض اقسام میں جسموں کی صفات، ان کے خواص اور ان کے تغیر وتبدل کی کیفیت کے بارے میں بحث ہوتی ہے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے اطبا غور وفکر کرتے ہیں مگر یہ کہ طبیب خاص بدنِ انسانی کو بیماری اور صحت کی جہت سے دیکھتا ہے جبکہ طبیعیات والے تمام اجسام کو ان کے تغیر وتبدل کے اعتبار سے دیکھتے ہیں ۔ لیکن علمِ طب طبیعیات سے افضل ہے کیونکہ اس کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ طبیعیات کے علوم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
علم کلام کی حیثیت:
	اس تمام گفتگو سے پتا چلا کہ علمِ کلام ان پیشوں میں سے ہے جو فرضِ کفایہ ہیں تاکہ عوام کے دلوں کو بدعتیوں کے تخیلات سے محفوظ رکھا جاسکے اور یہ علم بدعتوں کے ظہور کی وجہ سے ظاہر ہوا جیسا کہ راہِ حج میں اہل عرب کے ظلم