Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
93 - 1087
صوفی نہ بنائے جو(بعد میں علم) حدیث حاصل کرے۔‘‘  (۱)
	اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو حدیث اور علم حاصل کرنے کے بعد صوفی بنا وہ کامیاب ہے اور جو علم حاصل کرنے سے پہلے ہی صوفی بن بیٹھا اس نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیا۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
 اگر تم کہو کہ علمِ کلام اور فلسفہ کو علوم کی اقسام میں کیوں بیان نہیں کیا اور اس بات کی وضاحت کیوں نہیں کی کہ یہ دونوں اچھے ہیں یا برے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علمِ کلام جن مفید دلائل پر مشتمل ہوتا ہے ان کا حاصل قرآنِ پاک اور احادیث ِ مبارَکہ میں موجود ہوتا ہے اور جو ان دونوں سے خارج ہے وہ یا تو براجھگڑا ہے اور وہ بدعتیں ہیں جنہیں عنقریب بیان کیا جائے گا یا مختلف فرقوں کے اختلافات سے متعلق لڑائی جھگڑے کی باتیں ہیں اوران مقالات کو نقل کرنا (بلاوجہ) کتاب کو طول دینا ہے کہ یہ اکثر ان لغویات اور بیہودہ باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں طبیعتیں حقیر سمجھتی اور کان ان سے بیزار ہیں ۔بعض ان میں سے وہ ہیں کہ جن میں غور وخوض کرنے کا دین سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی وہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے زمانے میں تھیں  نیزان میں غور وخوض کرنا مکمل طور پر بدعت تھا لیکن اب ان کا حکم بدل چکا ہے کیونکہ قرآن وحدیث کے تقاضوں سے پھیرنے والی بدعتیں پیدا ہو چکی ہیں اور ایک گروہ ایسا ظاہر ہوا ہے کہ جس نے بدعت میں جھوٹ گھڑلئے اور اس میں کلام مرتب کرلئے جس کی وجْہ سے اس ممنوع کام کی ضرورت کی بنا پر اجازت دی گئی بلکہ یہ فرضِ کفایہ ہے لیکن اتنی مقدار میں کہ جب بدعتی بدعت کی طرف مائل کرے تو اس کا مقابلہ کیا جاسکے اور اس کی ایک خاص حد ہے جسے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّہم آئندہ باب میں بیان کریں گے۔
فلسفہ اور اس کی اقسام:
	جہاں تک فلسفے کا معاملہ ہے تو یہ مستقل علم نہیں بلکہ اس کے چارحصے ہیں :
{1}…ہندسہ اور حساب: یہ دونوں جائز ہیں جیسا کہ گزرچکا ہے، ان سے صرف اُسی کو روکا جائے گا جس کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۱۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، علی بن ابراہیم بن یوسف:۴۸۰۳، ج۴۱، ص۲۵۲۔