Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
92 - 1087
متقین علمائے ظاہر کی عاجزی :
	 علمائے ظاہر میں سے اہلِ تقویٰ علمائے باطن اور دل والوں کی فضیلت کے معترف تھے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی شیبان راعی کے سامنے اس طرح بیٹھتے جس طرح طالب ِ علم مکتب میں بیٹھتا ہے اور پوچھتے کہ ’’ اِس اِ س معاملے کا حکم کیا ہے؟‘‘ کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی: ’’حضور! آپ جیسا عظیم شخص اس بدوی سے پوچھتا ہے؟‘‘ فرمایا:’’بے شک اسے اس چیز کی توفیق ملی ہے جس سے ہم غافل ہیں ۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معین عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن حضرتِ سیِّدُنا معروف کرخیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکے پاس آتے جاتے اور ان سے مسائل پوچھتے تھے حالانکہ وہ علمِ ظاہر میں ان دونوں کے ہم مرتبہ نہیں تھے اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ جب آقائے دوعالم، نورِمجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کا حکم کتاب وسنت میں نہ پائیں توکیاکریں ؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ نیک لوگوں سے پوچھ لیا کرو اور ان سے مشورہ کیا کرو۔‘‘  (۲)
	اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ علمائے ظاہر زمین اور ملک کی زینت ہیں جبکہ علمائے باطن آسمانوں اور ملکوت کی زینت ہیں ۔(۳)
علم حدیث کے بعد علم تصوف حاصل کرو:
	حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ایک دن مجھ سے میرے شیخ حضرت سیِّدُنا سری سقطیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے استفسار فرمایا کہ ’’ جب تم میرے پاس سے جاتے ہو تو کس کی مجلس اختیار کرتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’حضرت محاسبی کی۔‘‘ فرمایا: ’’ٹھیک ہے۔ ان سے علم وادَب  سیکھنا اور وہ علمِ کلام اور متکلمین کا جو رد کریں اسے چھوڑ دینا۔ جب میں لوٹنے لگا توانہیں فرماتے سنا کہ ’’ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ  تجھے حدیث والا صوفی بنائے اور ایسا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۰۔ 
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب اجتہادالرأی علی الاصول، الحدیث:۹۱۶، ص۳۲۱۔ قوت القلوب الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۱۔ 
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۰۔