Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
91 - 1087
فقیہ سے ان صفات میں سے کسی کا معنی پوچھا جائے حتی کہ اگر مثال کے طور پر اخلاص یا توکل یا رِیاکاری سے بچنے کی صورت ہی کے متعلق پوچھ لیا جائے تو وہ بتانے میں ضرور توقُّف کرے گا حالانکہ یہ اس پر فرضِ عین ہے اور اس سے غفلت برتنے میں آخرت میں اس کی ہلاکت وبربادی ہے۔ اگر اس سے لعان، ظہار، گھڑدوڑ اور تیر اندازی کے بارے میں پوچھاجائے تو وہ اس کی باریک ودقیق کئی جزئیات بیان کردے کہ کئی زمانے گزر جائیں مگر ان کی ضرورت نہ پڑے اور اگر ضرورت پڑے بھی تو شہر ان کے جاننے والوں سے خالی نہ ہو گا اور وہ اسے مشقت سے بچا لے گا تو یہ ان جزئیات میں رات دن مشقت اُٹھاتا رہے گا اور انہیں یاد کرنے اور پڑھنے میں مشغول ہو کر اس سے غافل ہو جائے گا جو دین کے معاملے میں اس کے لئے اہم ہے۔ اگر اس بارے میں اس سے رجوع کیا جائے تو کہے گا کہ میں اس میں اس لئے مشغول ہوا ہوں کہ یہ علمِ دین اور فرضِ کفایہ ہے۔ اس طرح یہ خود کو اور دوسروں کو اس کے سیکھنے میں دھوکا دیتا ہے۔ حالانکہ عاقل جانتا ہے کہ اگر اس سے اس کا مقصد فرضِ کفایہ میں اپنا حق ادا کرنا ہوتا تو وہ ضرور فرضِ عین کو اس پر مقدم کرتا۔بلکہ وہ توکئی فرضِ کفایہ پراسے مقدم کئے ہوئے ہوتا ہے کہ کتنے ہی شہر ایسے ہیں کہ جن میں ذمی کفار کے سوا کوئی مسلم طبیب نہیں حالانکہ اطبا کے متعلق جو فقہی احکام ہیں ان میں کفار کی گواہی قبول نہیں پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی اسے سیکھنے میں مشغول نہیں ہوتا اور علمِ فقہ بالخصوص اختلافی اور نزاعی مسائل میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں حالانکہ شہر ایسے فقہا سے بھرے پڑے ہیں جو فتویٰ دینے اور نوپید مسائل کا حل بتانے میں مصروف ہیں ۔ کاش! میں جان لوں کہ علمائے دین اس فرضِ کفایہ کو سیکھنے کی کیسے اجازت دیتے ہیں جسے ایک گروہ قائم رکھے ہوئے ہے اور اسے چھوڑنے کی کیسے رخصت دیتے ہیں جسے قائم کرنے والا کوئی ایک بھی نہیں ؟ اس کا سبب اس کے سوا کوئی نہیں کہ طب کے ذریعے اوقاف ووصیتوں کا متولی ہونا، یتیموں کے مال کا محافظ بننا، قاضی وحاکم بننا اور اس کے ذریعے اپنے ہم زمانہ لوگوں سے آگے بڑھنا اور دشمنوں پر غلبہ پانا میسر نہیں ۔
	ہائے افسوس! علمائے سُوء (یعنی برے علما) کے دھوکے کی وجْہ سے علم دین ناپید ہوگیا۔ ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں اس دھوکے سے پناہ میں رکھے جس میں رحمن عَزَّوَجَلَّکی ناراضی اور شیطان کی خوشی ہے۔