Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
90 - 1087
جیسے صبر، شکر، خوف، رجا، رضا، زہد، تقویٰ، قناعت، سخاوت،ہر حال میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے احسانات کو پہچاننا، احسان، حسن ظن، حسن اخلاق، حسن معاشرت، سچائی، اخلاص، ان احوال کی حقیقتوں کی معرفت، تعریفات اور جن اسباب سے یہ حاصل ہوتے ہیں ، ان کا نتیجہ، علامت، ان میں جو کمزور ہو اس کا علاج کہ جس سے وہ قوی ہوجائے اور جو ختم ہوچکے وہ حاصل ہوجائیں ان تمام باتوں کی معرفت علمِ آخرت میں سے ہے۔ ان احوال میں جو برے ہیں : غربت کا ڈر، جو مقدر میں ہے اس پر ناخوش ہونا، کینہ، بغض، حسد، دھوکا، بلندی کی خواہش، تعریف چاہنا، دنیا سے لطف اندوز ہونے کے لئے زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی خواہش، تکبر، ریا، غصہ، نفرت، عداوت، دشمنی، لالچ، بخل، خواہش، اِترانا، انتہائی شریر ہونا، سست ہونا، مالداروں کی تعظیم کرنا، غریبوں کو حقیر جاننا، فخر کرنا، خودپسندی، آگے بڑھنے کی خواہش، حسن وجمال میں مقابلہ کرنا، عناد وتکبر کی وجْہ سے حق کو نہ ماننا، فضولیات میں غور وخوض کرنا، زیادہ باتیں پسند کرنا، شیخی مارنا، لوگوں کے لئے زینت اختیار کرنا، چاپلوسی کرنا، غرورکرنا، لوگوں کے عیبوں کے پیچھے پڑنا اور اپنے عیبوں کو بھول جانا، دل سے رنج وغم مٹ جانا اور خوفِ خدا نکل جانا، نفس کو جب ذلت پہنچے تو اس کے لئے شدت سے مقابلہ کرنا اور حق کی مدد میں کمزور رہنا، بظاہر دوست بناکر دل میں دشمنی رکھنا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے اس بارے میں بے خوف رہنا کہ جو اس نے عطا فرمایا وہ سلب نہ کرلے، عبادت میں سستی کرنا، فریب، خیانت، دھوکے بازی اور لمبی امیدیں ، دل کی سختی، بھونڈاپن، دنیا ملنے پر خوش ہونا اور چھن جانے پر افسوس کرنا، لوگوں کے ساتھ رہنے سے مانوس ہونا ان کے جدا ہونے سے وحشت وگھبراہٹ محسوس کرنا، بدخلق وتندمزاج ہونا، غصہ، جلدبازی، بے شرمی وبے حیائی اور سنگدلی وبے رحمی۔ یہ اور اس طرح کی دیگر مذموم قلبی صفات بے حیائیوں اور حرام وممنوع افعال کی بنیادیں ہیں اور ان کے مقابل جو اچھے اخلاق ہیں وہ طاعتوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہیں ۔ ان امور کی تعریفات، حقیقتوں ، اسباب، نتائج اور علاج کا علم علمِ آخرت ہے اور علمائے آخرت کے فتوے کے مطابق فرضِ عین ہے۔ ان سے اِعراض کرنے والا آخرت میں قہر الٰہی سے ہلاک ہو گا جیساکہ علمائے دنیا کے فتوے کے مطابق ظاہری اعمال سے اِعراض کرنے والا دنیوی بادشاہوں کی تلواروں سے ہلاک ہوتا ہے۔
	فرضِ عین میں فقہا کی نظر دنیوی مفاد کی نسبت سے ہوتی ہے جبکہ یہ علم آخرت کی بہتری کے لئے ہے۔ اگر کسی