علم مکاشفہ سے مقصود:
علمِ مکاشفہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ پردہ اٹھ جائے اور ان امور میں حق کھل کر ایسا واضح ہوجائے گویا آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اگر آئینۂ دل دنیا کی گندگیوں کے ہجوم سے ناپاک اور زنگ آلود نہ ہو تو یہ چیز انسان کے جوہر (یعنی ذات) میں ممکن ہے اور علمِ طریقِ آخرت سے ہماری مراد یہی ہے کہ ایسا طریقہ جاناجائے جس سے دل کا آئینہ ان تمام خباثتوں سے پاک وصاف ہوکر چمک اُٹھے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات و صفات اور افعال کی معرفت میں حجاب ہیں ۔
آئینۂ دل کی پاگیزگی اور صفائی کا ذریعہ:
آئینۂ دل کی پاکیزگی اور صفائی کا ذریعہ یہ ہے کہ بندہ خواہشات سے رُک جائے اور انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تمام احوال میں ان کی پیروی کرے۔ جس قدَر دل کی صفائی ہوتی جائے گی اور اس میں حق کا حصہ آتا جائے گا اسی قدَر اس میں حقائق چمک اُٹھیں گے اور یہ اس ریاضت کے بغیر نہیں ہوسکتا جس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ علم وتعلیم بھی اس کا ذریعہ ہیں ۔یہ علوم کتابوں میں نہیں لکھے جاتے اور جس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان علوم میں سے کچھ انعام فرمایا ہو وہ انہی لوگوں کو بیان کرتا ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور وہ گفتگوکے ذریعے اور رازدار بن کر اس میں شریک ہوتا ہے اور یہی وہ مخفی علم ہے جو سَیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان سے مراد ہے کہ ’’بے شک کچھ علوم چھپے خزانوں کی طرح ہیں جنہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھنے والوں کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جب وہ ان علوم کی باتیں کرتے ہیں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دھوکے میں رہنے والے ہی اس کا انکار کرتے ہیں ۔ لہٰذا تم ایسے کسی عالم کو حقیر نہ جانو جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان علوم میں سے کچھ عطا فرمایا ہو کیونکہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ علم عطا فرماتا ہے اسے حقیر نہیں رہنے دیتا۔‘‘ (۱)
برے افعال کی بنیادیں اور نیک اعمال کا سرچشمہ:
(علم طریق آخرت کی)دوسری قسم: علمِ معاملہ ہے اور یہ دل کے احوال کا علم ہے۔ ان احوال میں جو اچھے ہیں :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوتِ القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۶۔