Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
88 - 1087
فرشتے نبیوں کے سامنے کیسے ظاہر ہوتے ہیں ۔ انبیا پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے۔ آسمانوں اور زمین کے عجائبات، دل کی معرفت، فرشتوں کے لشکر اور شیطانوں کے گروہ دل کے معاملے میں کیسے جھگڑتے ہیں ۔ فرشتے کے اِلہام اور شیطان کے وسوسے میں کیا فرق ہے۔ آخرت، جنت و دوزخ، عذابِ قبر، پل صراط، میزان اور حساب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اوراللّٰہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے ان ارشاد ات کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔ (چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:)
اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۱۵،بنی1 اسرا1ئیل:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ( اعمال) پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے۔
	ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾ (پ۲۱:،العنکبوت:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔
	اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات،دیدارِ الٰہی، اس کا قرب پانے اور اس کے جوار رحمت میں آنے، مقرب فرشتوں کی رفاقت اور انبیا وملائکہ سے ملاقات کی سعادت ملنے اور جنتیوں کے درَجات میں تفاوت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے یہاں تک کہ بعض جنتی بعض کو ایسے دیکھیں گے جیسے آسمان کے بیچ میں چمکتا ستارہ دکھائی دیتا ہے ان کے علاوہ اور بے شمار معلومات جن کی بڑی تفصیل ہے کیونکہ ان امور کے اصول کی تصدیق کے بعد انہیں سمجھنے میں لوگوں کی حالتیں مختلف ہیں ۔ چنانچہ، بعض کا خیال ہے کہ ’’یہ تمام مثالیں ہیں اور جو انعامات اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار فرمائے ہیں انہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا ۔ مخلوق کے لئے سوائے صفات اور ناموں کے جنت میں سے کچھ نہیں ہے۔‘‘ بعض کا اعتقاد ہے کہ ’’ ان میں سے کچھ تو مثالیں ہیں اور کچھ الفاظ سے سمجھے جانے والے حقائق کے موافق ہیں ۔‘‘ بعض کا یہ گمان ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کی حد یہ ہے کہ ’’اس کی معرفت سے عاجز ہونے کا اقرار کرلیا جائے۔‘‘ بعض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت میں بڑی بڑی باتوں کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی معرفت کی انتہا وہ ہے جہاں تمام عوام کے اعتقاد کی اتنہا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  موجود ہے۔ عالم ہے۔ قادر ہے۔ سنتا ،دیکھتا اور کلام فرماتا ہے۔‘‘  (۱)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الایمان باللّٰہ، الحدیث:۱۲۱، ج۱، ص۱۳۶۔