Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
87 - 1087
تیسری فصل:		      عِلْمِ طریق آخرت کی اَقسام
	پہلی قسم: علمِ مکاشفہ ہے اور یہ علمِ باطن ہے جو تمام علوم کی انتہا ہے۔ چنانچِہ، ایک عارف باللّٰہ کا قول ہے کہ ’’جسے اس علم سے حصہ نہیں ملا مجھے اس کے برے خاتمے کا خوف ہے اور اس کا کم سے کم حصہ یہ ہے کہ اسے سچا جانے اور اس کے اہل کو تسلیم کرے۔‘‘  (۱)
	ایک اور عارف کا قول ہے کہ ’’جس میں دو(بری)خصلتیں بدعت اور تکبر ہوں گی اسے اس علم سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘‘(۲)
منقول ہے کہ جو دنیا سے محبت یا خواہش پر اصرار کرے گا وہ اس علم کی حقیقت نہیں پاسکے گا(۳)اگرچہ باقی تمام علوم میں مہارت حاصل کرلے اور اس کا انکار کرنے والے کی کم سے کم سزا یہ ہو گی کہ وہ اس میں سے کچھ نہ چکھ پائے گا۔اسی پر یہ شعر کہا گیا ہے:
وَاَرْضِ لِمَنْ غَابَ عَنْکَ غَیْبَتَہ 		فَذَاکَ ذَنْبٌ عِقَابُہُ فِیْہ
	ترجمہ: جو تجھ سے پوشیدہ ہے اس کے پوشیدہ رہنے پر راضی رہ تو یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی سزا اسی میں ہے۔
علم مکاشفہ کا نور جب دل میں ظاہر ہوتا ہے تو!
	علم مکاشفہ صدیقین اور مقربین کا علم ہے جو اس نور کا نام ہے جو دل میں اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اسے تمام بری صفات سے پاک وصاف کر لیا جائے اوراس سے کثیر امور ظاہر ہوتے ہیں کہ وہ پہلے ان کے نام سنا کرتاتھا پھر ان کے لئے غیر واضح اور مختصر معانی کا تصور قائم کرتا تھااور(اس نورکے دل میں ظاہر ہونے کے بعد) اسے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ، اس کی باقی رہنے والی کامل صفات ،اس کے افعال کی معرفت حاصل ہوتی اور دنیا وآخرت کو پیدا کرنے میں اس کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ خالِقِ کائنات نے آخرت کو دنیا پر کیوں مُرتَّب کیا ہے۔ نبوت اور نبی، وحی اور شیطان، لفظ ملائکہ اور شیاطین کے معانی معلوم ہوتے ہیں ۔ شیاطین انسانوں سے کس طرح دشمنی کرتے ہیں ۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب،الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۴۔ 
2…المرجع السابق۔		
 3…المرجع السابق۔