Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
86 - 1087
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم یہ کہو کہ فقہ اور طب کو برابرکیوں کردیا جبکہ طب کا تعلق بھی دنیا سے ہے اور اس سے آدمی کے بدن کی تندرستی ہے اور بدن کی تندرستی سے بھی دین کی بہتری کا تعلق ہے اور یہ برابری مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں   برابری لازم نہیں آتی بلکہ ان کے درمیان فرق ہے۔
 فقہ کی طب پر فضیلت:
	 فقہ تین وجہ سے طب سے افضل ہے:
{1}…فقہ علمِ شرعی ہے کیونکہ یہ انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حاصل ہوتا ہے جبکہ طب علمِ شرعی نہیں ۔
{2}…راہِ آخرت کے سالکین میں   سے کوئی بھی علمِ فقہ سے بے نیاز نہیں ہوسکتا نہ مریض اور نہ ہی تندرست جبکہ علمِ طب کی حاجت صرف بیماروں کو ہوتی ہے اور وہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں ۔
{3}…علمِ فقہ علمِ طریقِ آخرت کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں   اعضاء سے صادر ہونے والے اعمال میں   غور و فکر کیا جاتا ہے اور اعضاء سے صادر ہونے والے اعمال کی بنیاداور مقصد صفاتِ قلب ہیں ۔ لہٰذاعمدہ اعمال وہ ہیں جو آخرت میں   نجات دلانے والی اچھی صفات سے صادر ہوں اور برے وہ جو بری صفات سے صادر ہوں اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اعضاء کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہر حال تندرستی اور بیماری کا منشاطبیعت کانکھاراور خلط ملط ہو جانا ہے اور یہ بدن کے اوصاف ہیں نہ کہ دل کے۔لہٰذا جب فقہ کی نسبت طب کی طرف کی جائے تو فقہ کی فضیلت عیاں ہوتی ہے اور جب علمِ طریقِ آخرت کی نسبت فقہ کی طرف کی جائے تو علمِ طریقِ آخرت کی فضیلت ظاہر ہوجاتی ۔
	اب اگر تم کہو کہ علمِ طریقِ آخرت کی ایسی تفصیل بیان کردیجئے کہ اس کے عنوانات کی طرف اشارہ ہوجائے اگرچہ اس کی مکمل تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی۔
	 تو جان لو کہ علم طریقِ آخرت کی دوقسمیں   ہیں :
(۱)… علم مکاشفہ 		(۲)…علم معاملہ۔