Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
85 - 1087
 زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہ گزرے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے قرب میں   اضافے کا فائدہ نہ دے۔ اگرچہ وہ جانتا ہے کہ یہ اسے حرام کی طرف نہیں لے جائے گا۔
	پہلے دَرَجے کے علاوہ بقیہ تینوں فقیہ کی نظر وفکر سے خارج ہوتے ہیں ۔پہلا درَجہ وہ ہے جو شہادت وقضا کا تقویٰ ہے جو عدالت اور اس کے قیام میں   عیب ہے ۔یہ آخرت میں   گناہ ہونے کے منافی نہیں ۔ 
	سرکارِمدینہ ، راحت ِقلب وسینہ ، فیض گنجینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا وابصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’ اپنے دل سے فتویٰ طلب کرو اگرچہ لوگ تمہیں (کچھ) فتویٰ دیں ، اگرچہ لوگ تمہیں (کچھ) فتویٰ دیں ، اگرچہ لوگ تمہیں (کچھ)فتویٰ دیں ۔‘‘  (۱)
	اور فقیہ خطراتِ قلب اور ان پر عمل کی کیفیت کے بارے میں   گفتگو نہیں کرتا بلکہ فقط اس چیز کے بارے میں   کلام کرتا ہے جو عدالت میں  عیب ہو۔ مختصر یہ کہ فقیہ کی نظر دنیا کے معاملات سے وابستہ ہوتی ہے جس سے راہِ آخرت بہتر ہو اور اگر وہ دل کی صفات اور احکامِ آخرت میں   کچھ کلام کرے تو یہ ضمناً اس کے کلام میں   داخل ہوگا جس طرح اس کی گفتگو میں   طب، حساب، نجوم اور علمِ کلام داخل ہوجاتے ہیں اور جس طرح نحو وشعر میں   حکمت داخل ہو جاتی ہے۔
	 حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’علم حدیث(۲) کی طلب زادِ آخرت سے نہیں ۔‘‘ (۳)اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضیلت اسی علم کی ہے جس پر عمل کیا جائے تو پھر کیونکر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ ظہار، لعان، سلم، اجارہ اور صرف کا علم ہے اور جس نے ان امور کو اس نیت سے سیکھا کہ ان کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا قرب حاصل کرلے گا تو وہ پاگل ہے۔ عبادات میں  عمل کا تعلق توصرف دل اور اعضاء سے ہی ہے اور فضیلت بھی انہی اعمال کی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث وابصۃ بن معبد، الحدیث: ۱۸۰۲۸، ج۶، ص۲۹۳۔ 
2…کیونکہ ایسے شخص کے دل پر اسنادکی محبت اور کثرت روایت غالب آجاتی ہے حتی کہ وہ ضعیف اور غیر مستند راویوں سے بھی روایت کرتا ہے۔(اتحاف السادۃ المتقین،کتاب العلم ،الباب الثانی،ج۱،ص۲۵۱)
3…قوت القلوب، الفصل الحادی الثلاثون: کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ، ج۱، ص۲۳۳۔