تقویٰ کے مراتب:
اورجہاں تک حلال وحرام کی بات ہے تو حرام سے بچ کر تقویٰ اختیار کرنا دین سے ہے لیکن اس وَرع وتقویٰ کے 4دَرَجے ہیں :
{1}…ظاہری حرام سے بچنا: یہ وہ تقویٰ ہے جو عدالت وشہادت میں شرط ہے اسے ترک کرنے کے سبب انسان قضا وشہادت اور ولایت کی اہلیت سے نکل جاتا ہے۔
{2}…صالحین کا تقویٰ: یہ ان شبہات سے بچنے کا نام ہے جن میں احتمالات ہوتے ہیں ۔جیساکہ حضور نبی ٔ پاک ، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ جو تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑکر جو شک میں نہ ڈالے اسے اختیارکرو۔‘‘(۱)
ایک روایت میں ہے :’’ گناہ دلوں میں کھٹکتا ہے۔‘‘ (۲)
{3}…پرہیزگاروں کا تقویٰ: یہ خالص حلال کو ترک کر دینے کا نام ہے جس کے بارے میں خوف ہو کہ وہ حرام کی طرف لے جائے گا۔جیساکہ حضور نبی ٔکریم ، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ آدمی اس وقت تک پرہیزگاروں میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک اس چیز کو نہ چھوڑدے جس میں کوئی حرج نہیں اس خوف سے کہ کہیں اس میں مبتلانہ ہوجائے جس میں حرج ہے۔‘‘ (۳)
اس کی مثال:لوگوں کے احوال کے بارے میں اس لئے گفتگو کرنے سے گریز کرے کہ کہیں اس کی وجْہ سے غیبت میں نہ پڑ جائے اور خواہشات کے مطابق کھانے سے اس خوف سے باز رہے کہ کہیں طبیعت میں تکبر ونشاط نہ آجائے اور وہ ممنوعات میں نہ جا پڑے۔
{4}…صدیقین کا تقویٰ: یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے کنارہ کش ہوجانے کا نام ہے اس خوف سے کہ کہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث:۲۵۲۶، ج۴، ص۲۳۲۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۸۷۴۸، ج۹، ص۱۴۹۔ شعب الایمان للبیہقی، باب فی تحرم الفروح، الحدیث:۵۴۳۴، ج۴، ص۳۶۷۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الورع والتقوی، الحدیث:۴۲۱۵، ج۴، ص۴۷۵۔