نے کلمہ پڑھا تو صحابی نے اس بنا پر اسے قتل کرڈالا کہ اس نے یہ کلمہ تلوار کے خوف سے پڑھا ہے۔ جب دربارِ رسالت میں یہ بات پہنچی تو ارشاد فرمایا:’’ ہَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ یعنی کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟‘‘ (۱)بلکہ فقیہ تلواروں کے سائے میں بھی اسلام کے صحیح ہونے کا حکم دے گا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ تلوار نہ تواس کی نیت کو ظاہر کرتی ہے اور نہ ہی اس کے دل سے جہالت وتردُّد کا پردہ ہٹاتی ہے۔ البتہ وہ تلوار والے کو اشارہ دیتا ہے کیونکہ تلوار اس کی گردن کی طرف اور ہاتھ اس کے مال کی طرف بڑھے ہوتے ہیں اور زبان سے یہ کلمہ کہہ دینا اس کی گردن اور مال کو بچالیتا ہے جب تک اس کی گردن اور مال رہتے ہیں اور یہ صرف دنیا میں ہے۔ اسی لئے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے حکم دیاگیاہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ نہ کہیں ۔ جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنے خون اور اموال بچا لیں گے۔ (۲) لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا اثر خون اور مال میں رکھا جبکہ آخرت میں اموال نہیں بلکہ دلوں کے انوار واسرار اور اخلاص نفع دیں گے اور ان چیزوں کا تعلُّق فقہ سے نہیں ۔ اگر فقیہ اس میں غور وفکر کرے گا تو ایسا ہوگا جیسے وہ علمِ کلام اور طب میں غور وخوض کرتا ہے اور اپنے فن سے نکل جائے گا۔
نماز: کے معاملے میں بھی فقیہ صحیح ہونے کا حکم دے گا جب تک نماز پڑھنے والا اسے ظاہری شرائط کے ساتھ اعمال کی صورت میں ادا کرے گا اگرچہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ از اوّل تا آخر پوری نماز میں غافل رہے اور بازار کے معاملات میں غور وفکر کرتا رہے۔ حالانکہ آخرت میں ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہو گاجیسا کہ اسلام میں صرف زبانی قول نفع نہیں دیتا۔ البتہ فقیہ صحیح ہونے کاہی حکم دے گا یعنی جو عمل اس نے کیا اس سے حکم پر عمل ہو گیا اور اس سے قتل اور تعزیر کا حکم ساقط ہو جائے گا۔ رہا خشوع وخضوع کا معاملہ تو یہ اُخروی عمل ہے۔ ظاہری عمل کا فائدہ اسی کے ساتھ ہوتا ہے، فقیہ کو اس سے غرض نہیں ہوتی اور اگر وہ اس کے در پے ہوگا تو اپنے فن سے نکلنے والا کہلائے گا۔
یونہی زکوٰۃ :کے معاملے میں فقیہ یہ دیکھے گا کہ اس شخص سے حاکم کا مطالبہ کیسے ختم ہوگا یہاں تک کہ اگرکسی نے زکوٰۃ ادانہ کی اورحاکم نے زبردستی زکوٰۃ وصول کرلی تو فقیہ اسے زکوٰۃ سے بریٔ الذمہ ہونے کاحکم دے گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…السنن الکبری للنسائیی،کتاب السیر، باب قول المشرک لا الہ الا اللّٰہ، الحدیث:۸۵۹۴، ج۵، ص۱۷۶۔ صحیح مسلم،کتاب الایمان، باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الہ الا اللّٰہ، الحدیث:۹۶، ص۶۳۔
2…سنن النسائی،کتاب تحریم الدم، الحدیث:۳۹۷۷، ص۶۵۰۔