Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
82 - 1087
ان کا قیام تیسری شے ہے اور حفاظت کے طریقوں ، تدبیروں اور قوانین کا جاننا چوتھی شے ہے۔ تو فن فقہ کا حاصل یہ ہے کہ سیاست اور حفاظت کے طریقے جانے جائیں ۔ اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو مسنداً مروی ہے کہ لوگوں کو فتوے نہیں دیتے مگر تین طرح کے لوگ: امیر، مامور یامُتَــکَلِّف۔ (۱)
	امیر سے مراد حاکم ہے اوریہی فتویٰ دیتے تھے اور مامور سے مراد اس کا نائب ہے اور متکلف ان دونوں کے علاوہ ہے اور یہ وہ ہے جو بلاضرورت اس عہدے کی خواہش کرتاہے حالانکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن فتویٰ دینے سے بچتے تھے یہاں تک کہ ان میں   سے ہر ایک اپنے ساتھ والے کی طرف پھیردیتا اور جب ان سے راہِ آخرت یا علمِ قرآن کے بارے میں   پوچھا جاتا تو احتراز نہیں کرتے تھے۔ ایک روایت میں   اَ لْمُتَکَلِّف کے بجائے المرائی (یعنی ریاکار) ہے کیونکہ جو فتوے کے خطرے کو سر لیتا ہے جبکہ وہ اس کے لئے خاص بھی نہیں تو لامحالہ فتویٰ دینے سے اس کا مقصود حُبِّ جاہ ومال ہی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم یہ کہو کہ تمہاری یہ تقریر زخموں ، حدود اور تاوان کے اَحکام اور جھگڑوں کے فیصلوں میں   تودُرست ہو سکتی ہے لیکن عبادات یعنی نماز، روزے اور عادات ومعاملات یعنی حلال وحرام کے احکام کے بیان میں   دُرست نہیں ۔ تو جان لو!فقیہ جن اعمال کے بارے میں   کلام کرتا ہے ان میں   اعمال آخرت کے سب سے زیادہ قریب تین اعمال ہیں : (۱) اسلام (۲)نماز وزکوٰۃ اور (۳)حلال وحرام۔ جب تم ان اعمال میں   فقیہ کی انتہائی نظر کو ملاحظہ کرو گے تو یہ بات جان لوگے کہ فقیہ دنیا کی حدود سے آخرت کی طرف نہیں بڑھتا اور جب تم نے ان تین اعمال میں   اس بات کو جان لیا تو ان کے علاوہ اعمال میں   تو یہ زیادہ ظاہر ہے۔
	 اسلام:میں   فقیہ صرف اس بارے میں   کلام کرتا ہے کہ کس کا اسلام درست ہے اور کس کانہیں ؟ اور اسلام کی شرطیں کیا ہیں اور اس میں   وہ صرف زبان کی طرف متوجہ ہوتا ہے دل تو اس کے اختیار میں   نہیں کیونکہ مکی مدنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تلوار اور سلطنت والوں کو اس سے الگ کردیا ہے جیسا کہ جب جنگ کے دوران ایک شخص
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عوف بن مالک،الحدیث:۲۴۰۲۷،ج۹،ص۲۵۳۔قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ، ذکرفضل علم المعرفۃ…الخ،ج۱،ص۲۲۸۔