ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم کہو کہ تم نے فقہ کو علمِ دنیا اور فقہا کو علمائے دنیا کے ساتھ کیوں ملا دیا؟ تو جان لو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے پیدا فرمایا اور آپ کی اولاد کوچنی ہوئی مٹی اور اُچھلتے پانی سے نکالا پھر پشتوں (باپوں کی پیٹھوں ) سے(ماؤں کے) رحموں میں ، رحموں سے دنیا میں ، دنیا سے قبر میں ، قبر سے محشر میں پھر محشر سے جنت یا دوزخ کی طرف بھیجے گا۔ یہ ہے ان کی ابتداو انتہا اور منزلیں ۔ دنیا کو آخرت کی تیاری کے لئے پیدا فرمایا تاکہ دنیا سے وہ لیا جائے جو سفر آخرت کے لئے زادِ راہ بن سکے۔ لہٰذااگر لوگ عدل وانصاف کے ساتھ دنیا سے لیتے تو نہ جھگڑوں کی نوبت آتی اور نہ ہی فقہا کی ضرورت پیش آتی لیکن انہوں نے خواہشات کے مطابق لیا جس سے جھگڑوں نے جنم لیا تو بادشاہ کی ضرورت پڑی جو ان کے معاملات سنبھالے اور بادشاہ کو قانون کی ضرورت پڑی جس کے مطابق وہ لوگوں کا انتظام کرے پس فقیہ قانونِ سیاست کا عالم اور لوگوں کے درمیان واسطہ ہے۔ جب لوگوں میں خواہشات کی وجْہ سے جھگڑے ہوجاتے ہیں تو فقیہ بادشاہ کو لوگوں کے معاملات کو سنبھالنے اور کنٹرول کرنے کے طریقے بتاتا ہے تاکہ وہ ان کے دنیوی معاملات کا صحیح انتظام کرسکے۔
میری زندگی کی قسم! اس کا تعلق بھی دین سے ہے لیکن فی نفسہٖ(یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے) نہیں بلکہ دنیا کے واسطے سے۔ کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اوردین دنیا ہی سے مکمل ہوتا ہے، سلطنت اور دین ایک ہی ہیں ۔ دین اصل ہے اور بادشاہ نگہبان۔ جس کی اصل نہ ہو وہ گر جاتا ہے اور جس کا کوئی محافظ نہ ہو وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ نیز ملک اور اس کا انتظام سلطان کے بغیر نہیں چل سکتا اور جھگڑوں کے فیصلوں میں کنٹرول کا طریقہ فقہ سے آتا ہے۔جس طرح سلطنت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح وبہتری کے طریقے جاننا کا حکم ہے جوپہلے درَجے کا علمِ دین نہیں بلکہ یہ اس پر معین ومددگار ہے جس کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتااسی طرح سیاست کے طریقے جاننے کا حکم ہے۔
علم فقہ کا حاصل:
چونکہ یہ بات معلوم ہے کہ اگرراستے میں عرب کے(راہزنوں سے بچاؤ کے لئے)محافظین نہ ہوں تو حج مکمل نہیں ہو سکتا لیکن حج اور شے ہے اور اس کے لئے راستہ طے کرنا دوسری شے اور جن حفاظتی اقدامات کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا