Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
80 - 1087
 اخلاق اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ امور کاعلم ۔’’اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن‘‘ کا نصف اخیر اسی پر مشتمل ہے جبکہ نصف اول ان امور کے علم پر مشتمل ہے جو عبادات اور عادات میں   دل سے اعضاء پر ظاہر ہوتے ہیں ۔
	تیسری قسم مقدمات: یہ وہ ہیں جو آلات کے قائم مقام ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ علمِ لغت ونحو کہ یہ دونوں کِتَابُ اللّٰہ اور سنت رسول کے علم کے لئے آلہ ہیں ۔ لغت اور نحو بذات ِخود شرعی علوم میں   سے نہیں ، البتہ ان میں   غور وخوض سبب ِ شرعی کی وجہ سے لازم ہے کیونکہ شریعت لغت ِ عرب پر اُتری ہے اور کوئی بھی شریعت لغت کے بغیر ظاہر نہیں ہوتی اس لئے لغت کو سیکھنا آلہ بن گیا۔ لکھنے کا علم بھی آلات کی قسم میں   سے ہے مگر اس کاسیکھناضروری نہیں کیونکہ رسولِ خداصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُمی تھے(یعنی آپ نے دنیامیں   کسی سے پڑھا،لکھانہیں یہ آپ کاعظیم معجزہ ہے) (۱) اور اگر مستقل طور پر جو سنا جائے اسے زبانی یاد کر لینا ممکن ہوتا تو لکھنے کی حاجت نہ پڑتی لیکن بدا ہۃً غالب اکثریت اس سے عاجز ہے۔
	چوتھی قسممُتَــــمِّمات: یہ علم قرآن سے متعلق ہے۔ اس کی تین قسمیں   ہیں : 
	(۱)…وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے جیسا کہ قرائتیں اور مخارِجِ حروف سیکھنا۔ 
	(۲)…وہ جس کا تعلُّق معانی سے ہے جیسا کہ تفسیر۔ اس میں   بھی نقل ہی پر اعتماد کیا جاتا ہے کیونکہ محض لغت تفسیر بتانے میں   مستقل نہیں ۔
	 (۳)…وہ جس کا تعلُّق احکامِ قرآن سے ہے جیسا کہ ناسخ ومنسوخ، عام وخاص اور نص وظاہر کی پہچان نیزان میں   سے بعض کوبعض کے ساتھ استعمال کرنے کا طریقہ۔ یہی وہ علم ہے جسے اصولِ فقہ کہا جاتا ہے اور یہ سنت کو بھی شامل ہے۔
	 آثار واخبار میں   مُتَــــمِّمات علمِ رجال ہے یعنی راویوں کے بارے میں   جاننا، ان کے نام، ان کے نسب، صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَـنْہُم کے نام، ان کا تعارف، راویوں میں   عدالت اور ان کے احوال کا علم تاکہ ضعیف کو قوی سے ممتاز کیا جاسکے، ان کی عمروں کا علم تاکہ مرسل و مسند میں   فرق کیا جاسکے اور اسی طرح وہ علوم جن کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ یہ علومِ شرعیہ ہیں اور تمام کے تمام محمود ہیں بلکہ سب کے سب فرضِ کفایہ علوم میں   سے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبی بعد التشھد، الحدیث:۹۸۱، ج۱، ص۳۶۹۔ المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمرو، الحدیث:۶۶۱۷، ج۲، ص۵۸۱۔