{2}… مذموم علوم:جیسے جادو،کرشمات، شعبدہ بازی اور تلبیسات کا علم۔
{3}… مباح علوم: جیسے ان اشعار کا علم جو بے ہودہ نہ ہوں اور تواریخ وغیرہ کا علم۔
علوم شرعیہ کی اَقسام:
جہاں تک علومِ شرعیہ کا تعلُّق ہے اور یہی ہمارے بیان کا مقصود ہیں یہ تمام کے تمام محمود ہیں لیکن کبھی ان میں شبہ ہوجاتا ہے، لگتا ہے کہ وہ علومِ شرعیہ ہیں حالانکہ وہ مذموم ہوتے ہیں ۔ چنانچِہ، اس کی بھی دوقسمیں ہیں :(۱)… محمودہ (۲)…مذمومہ۔ علومِ شرعیہ محمودہ کے کچھ اصول(بنیاد) ، فروع(جزئیات)، مقدمات(یعنی آلات کے قائم مقام اشیائ)اور مُتَـمِّمَات ہیں (یعنی وہ علوم جومکمل کرنے والے ہیں )یوں اس کی چارقسمیں ہوئیں :
پہلی قسم اصول: یہ چارہیں :(۱) کتَابُ اللّٰہ (۲) سنّت ِ رسول (۳)اِ جماعِ اُمَّت اور (۴) آثارِ صحابہ۔
اجماع اس اعتبار سے اصل ہے کہ وہ سنت پر دلالت کرتا ہے اور وہ تیسرے درَجے کا اصل ہے اسی طرح اثر کہ وہ بھی سنت پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے وحی وتنزیل کے مشاہدے کئے اور احوال کے قرائن سے ان باتوں کو جان لیا جو ان کے علاوہ دوسروں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں ۔ کبھی عبارات ان باتوں کا احاطہ کرنے سے قاصر رہتی ہیں جو قرائن سے معلوم کی جاسکتی ہیں ۔ اسی لئے علما کی رائے یہ ہے کہ ان کی اقتدا کی جائے اور ان کے آثار کو مضبوطی سے تھاما جائے اور جنہوں نے انہیں دیکھا ان کے نزدیک یہ خاص شرط کے ساتھ خاص صورت پر ہیں لیکن اس کا بیان اس فن کے لائق نہیں ۔
دوسری قسم فروع: اس سے مراد وہ ہیں جو بیان کردہ اصولوں سے سمجھے جائیں ۔ اصولوں کے الفاظ کے تقاضے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان معانی کی وجْہ سے جن پر عقلیں آگاہ ہوئیں تو اس کے سبب مفہوم وسیع ہو گیا یہاں تک کہ بولے گئے لفظ سے وہ باتیں بھی معلوم ہوگئیں جن کے لئے لفظ کو نہیں لایا گیا جیسا کہ اس فرمانِ مصطفٰی کہ ’’قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔‘‘ (۱)سے سمجھا گیا ہے کہ وہ خوف زدہ ہونے یا بھوکا ہونے یا کسی مرض میں مبتلا ہونے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔ اس کی دوقسمیں ہیں : ایک کا تعلُّق دنیوی منافع سے ہے۔ کتب ِ فقہ اس پر مشتمل اور فقہا اس کے ذِمہ دار ہیں اور وہ علمائے دنیا ہیں ۔ دوسری کا تعلُّق آخرت کے منافع سے ہے اور یہ قلبی احوال، اچھے برے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابن ماجہ،کتاب الاحکام، باب لایحکم الحاکم وھوغضبان، الحدیث:۲۳۱۶، ج۳، ص۹۳۔