دوسری فصل: فرضِ کفا یہ علم کا بیان
جان لو! علوم کی اقسام ذکر کئے بغیر فرض علوم کو ان کے غیر سے ممتاز نہیں کیا جا سکتا اورعلم کی نسبت فرض کی طرف کی جائے تواس کی دوقسمیں بنتی ہیں :(۱)علومِ شرعیہ اور(۲) علومِ غیرشرعیہ، شرعیہ سے مراد وہ علوم ہیں جو حضراتِ انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حاصل کئے گئے ہیں عقل ان کی طرف راہنمائی نہیں کرتی جیسا کہ حساب اور نہ تجربہ اس کی جانب راہنمائی کرتا ہے جیسے طب اور نہ ہی وہ سماع سے حاصل ہوتے ہیں جیسے لغت۔
غیرشرعی علوم کی اقسام:
اس کی تین قسمیں ہیں : محمود، مذموم اور مباح۔
{1}… محمودعلوم:وہ ہیں جن سے دنیوی کاموں کی مصلحتیں وابستہ ہیں مثلاً طب اور حساب۔ اس کی بھی دوقسمیں ہیں :فرضِ کفایہ اورمستحب۔(۱) فرضِ کفایہ: وہ علم جس کے بغیر دنیا کے کاموں کا انتظام نہ ہو سکے جیسا کہ طب کیونکہ یہ بدنوں کی بقاکے لئے ضروری ہے اور حساب کیونکہ یہ معاملات، وصیتوں اور ترکے وغیرہ کی تقسیم میں ضروری ہے۔ یہ وہ علوم ہیں کہ اگر پورے شہر میں سے کسی ایک نے بھی انہیں حاصل نہ کیا تو پورے شہر والے گنہگار ہوں گے اور اگر کسی ایک نے سیکھ لیا تو کافی ہے دوسروں سے فرض ساقط ہو جائے گا اور ہمارے اس قول سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ ’’طب اور حساب فرضِ کفایہ ہیں ۔‘‘ کیونکہ صنعتوں کے اصول بھی فرضِ کفایہ علوم میں سے ہیں جیسا کہ کاشت کاری، کپڑا بنائی اور حکمت عملی وتدبیر بلکہ پچھنے لگانا اور کپڑا سلائی بھی۔ کیونکہ اگر سارے شہر میں کوئی بھی پچھنے لگانے والا نہیں ہوگا تو ہلاکت ان کی طرف جلدی کرے گی اور وہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنے کی وجْہ سے گنہگار ہوں گے کیونکہ جس نے بیماری نازل کی ہے اس نے اس کی دَوابھی اتاری ہے اور اسے استعمال کرنے کی راہنمائی بھی فرمائی ہے اور اسے حاصل کرنے کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں اس لئے انہیں چھوڑ کر ہلاکت سر لینا جائز نہیں ۔
(۲) مستحب: حساب کی باریکیوں اور طب کی حقیقتوں میں غوطہ زنی کرنا (یعنی گہرائی میں جانا) ہے اور ان کے علاوہ وہ چیزیں جن کی حاجت تو نہیں لیکن جتنی مقدار کی حاجت ہے اس میں اضافی قوت کے لئے مفید ہیں ان کے بارے میں جاننابھی مستحب ہے۔