Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
77 - 1087
حشر ونشر پر ایمان لانے کے بارے میں   تعلیم دینے میں   جلدی کرنی چاہئے تاکہ وہ ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کرے۔ یہ شہادت کے دوکلموں کی تکمیل ہے۔ کیونکہ حضورسیِّدعالم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رسول مان لینے کے بعد رسالت کے مفہوم کوسمجھناضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کی اس کے لئے جنت ہے اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس کا ٹھکانا جہنَّم ہے۔ جب بتدریج تمہیں ان باتوں پر آگہی حاصل ہو گئی تو جان لو کہ یہی مذہب ِ حق ہے اور یہ ثابت ہوجائے گا کہ دن اور رات کے احوال میں  کوئی بھی شخص عبادات اور معاملات میں   نئے مسائل سے خالی نہیں تو اس پر لازم ہے کہ جو مسئلہ واقع ہو اس کے بارے میں   سوال کرے اور عنقریب واقع ہونے والے مسائل کا علم حاصل کرنے میں   بھی جلدی کرے۔ 
	مذکورہ تمام بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ رسول خدا،مکی مدنی مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان عالیشان: ’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم‘‘ (۱)  میں   اَلْعِلْم سے اس عمل کاعلم مراد ہے جس کے بارے میں   مشہور ہے کہ وہ مسلمانوں پر فرض ہے نہ کہ کچھ اور، نیز وجہِ تدریج اور وقت ِ وجوب بھی خوب روشن ہو گئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہتر جاننے والا ہے۔


)تعریف اور سعادت)
حضرت سیدُناامام عبداللہ بن عمر بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی(متوفی۶۸۵ھ)  ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ جو شخص اللہ  اور  اس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری  کرتاہے دُنیاں  میں اس کی تعریفیں ہوتی ہیں اور آخرت میں سعادت مندی ست سر فراز ہوگا۔‘‘ 
(تفسیر البیضاوی۲۲، الاحزاب،تحت الایہ:۷۱ج۴،ص۳۸۸)


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فضل العلماء والحث…الخ، الحدیث:۲۲۴، ج۱، ص۱۴۶۔