سے اسے زائل کرنا فرض ہو جائے گااور بعض اوقات یہ بہت مشکل ہو جاتاہے ۔ جیسا کہ اگر یہ مسلمان تاجر ہے اور شہر میں سود کا معاملہ بہت زیادہ ہے تو اس پر سود سے بچنے کا علم حاصل کرنافرض ہے اور فرضِ عین علم میں یہی حق ہے اور اس کا مطلب فرض عمل کے طریقے کو جاننا ہے۔ لہٰذاجس نے فرض عمل کا علم اور اس کا وقت ِ فرضیت جان لیا تو بے شک اس نے فرضِ عین علم حاصل کرلیا۔
نیزصوفیا کا یہ قول کہ’’ شیطان کے وسوسوں اور فرشتوں کے الہام کو سمجھنا بھی ضروری ہے‘‘ یہ بھی حق ہے لیکن یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو صوفیاکے طریقے پر ہو ۔
عام طور پر انسان شر کے دَواعی(یعنی برائی کی طرف لے جانے والے امور)، ریا، حسد وغیرہ سے بچ نہیں پاتا اس لئے اس پر فرض ہے کہمُہْلِکَات(یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں ) میں سے جس کی وہ ضرورت محسوس کرے اس کا علم حاصل کرے اور یہ کیونکر فرض نہ ہو گا ۔
ہلاکت میں ڈالنے والے اُمور:
حضورنبی ٔکریم ، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’تین چیزیں ہلاکت کاباعث ہیں : ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے، ایسی خواہش جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خودپسندی میں مبتلا ہونا۔‘‘ (۱)
ان سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ ہم عنقریب دل کے باقی مذموم احوال(بری حالتیں ) بیان کریں گے جیسے تکبر، عجب اور اس کی مثل دوسرے احوال جو ان تین مہلکات کے تابع ہیں جن کاازالہ فرضِ عین ہے اور ان کی تعریفات، اسباب، علامات اور علاج جانے بغیر ان کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جو برائی کو نہیں پہچانتا وہ اس میں مبتلا ہوہی جاتا ہے۔ علاج یہ ہے کہ ہر سبب کا اس کی ضد سے مقابلہ کیا جائے اور یہ سبب اور مسبَّب کی پہچان کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ہم نے مہلکات کے بیان میں اکثر فرضِ عین علوم نقل کئے ہیں جبکہ کئی لوگوں نے لایعنی امور میں مشغول ہوکر انہیں نظر انداز کردیا ہے۔
وہ شخص کہ جوایک دین سے دوسرے دین میں داخل نہ ہوا ہو(بلکہ کفر سے اسلام میں آیا ہو) تو اسے جنت، دوزخ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسندالبزار، مسند عبداللّٰہ بن ابی اوفی، الحدیث:۳۳۶۶، ج۸، ص۲۹۵۔
المعجم الاوسط، الحدیث:۵۷۵۴، ج۴، ص۲۱۳۔