Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
75 - 1087
فرض نہیں اور جن کے بارے میں   معلوم ہو کہ بغیر اس کے چارہ نہیں اس کی آگہی حاصل کرنافرض ہے۔ جیسا کہ اسلام لاتے وقت کسی نے ریشم پہن رکھا تھا یاغصب شدہ زمین پر بیٹھا تھا یا غیرمحرم کو دیکھ رہا تھا تو اسلام لاتے ہی اس پرفرض ہوجائے گا کہ وہ ان کا علم حاصل کرے اور جن کی اسے ابھی ضرورت نہیں لیکن عنقریب ضرورت پڑے گی جیسے کھانا پینا تو ان کے بارے میں  بھی سیکھنا فرض ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی ایسے شہر میں   ہو جہاں شراب پینے اور خنزیر کھانے کا رواج ہو تو اس پر(حسب استطاعت ) فرض ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں   بتائے اور تنبیہ کرے ۔ بہرحال ہروہ کام جس کا سکھانافرض ہے اس کا سیکھنابھی فرض ہے۔
	تیسرے کی مثال:اِعتقادات اور اعمالِ قلب کا علم بھی قلبی خیالات کے مطابق فرض ہو گا۔لہٰذا اگر کسی کے دل میں   ان معانی کے بارے میں   شک واقع ہو جن پر شہادت کے کلمے دلالت کرتے ہیں تو اس پر اُن باتوں کا علم حاصل کرنافرض ہوگا جن کے ذریعے شک زائل ہو۔ اگرکسی کو اس بات میں   شک نہیں ہوا اور وہ اس کا اعتقاد رکھے بغیر وفات پاگیا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام قدیم ہے، اسے دیکھا جا سکتا ہے، وہ حوادث(یعنی تغیر پذیر امور) کا محل نہیں وغیرہ جنہیں عقائد کے باب میں   ذکر کیا جائے گا تو بے شک بالاتفاق اس کی موت اسلام پر ہوئی۔ اعتقادات کے لئے ضروری قلبی خیالات بعض ایسے ہیں جو طبیعت کی وجہ سے پیداہوتے ہیں اوربعض شہرکے لوگوں سے سن کر۔ اگر کوئی  ایسے شہر میں   ہو جہاں علمِ کلام عام ہو اور لوگ بدعتوں کے بارے میں   گفتگو کرتے ہوں تو بالغ ہوتے ہی سب سے پہلے اسے حق کی تلقین کرکے (بری)بدعتوں (۱) سے بچانا چاہئے کیونکہ اگر اس کے سامنے باطل کو پیش کر دیا گیا تو اس کے دل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548صفحات پر مشتمل کتاب فیضان سنت کے صفحہ 1109پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت بانی ٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بدعت کے حوالے سے چند احادیث ِ مبارکہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’ ایسی نئ بات جو سنّت سے دُور کرکے گمراہ کرنے والی ہو، جس کی اصل دین میں نہ ہووہ بدعتِ سَیِّـَٔہ یعنی بُری بدعت ہے جبکہ دین میں ایسی نئ بات جو سنّت پر عمل کرنے میں مدد کرنے والی ہو اور جس کی اصل دین سے ثابت ہو وہ بدعتِ حَسَنہ یعنی اچّھی بدعت ہے ۔‘‘(نیز)حضرت سیِّدُنا شیخ عبدالحق محدث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث پاک،’’وَکُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّار‘‘کے تحت فرماتے ہیں ،جو بدعت کہ اصول اور قواءد سنت کے موافق اور اس کے مطابق قیاس کی ہوئی ہے (یعنی شریعت و سنت سے نہیں ٹکراتی ) اُس کو بدعتِ حَسَنہکہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہے وہ بدعتِ ضلالت یعنی گمراہی والی بدعت کہلاتی ہے۔ (اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات،ج اول،ص۱۳۵)نوٹ:  مزیدمعلومات کے لئے فیضان سنت کے صفحہ1104تا1113کامطالعہ کیجئے!