Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
74 - 1087
	پھر اگر وہ ماہِ رمضان تک زندہ رہا تو سبب پائے جانے کی وجْہ سے روزے کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہو جائیں گے اور وہ یہ کہ روزے کا وقت صبحِ صادِق سے غروبِ آفتاب تک ہے۔ اس وقت میں   بنیَّت روزہ کھانے پینے اور جماع سے باز رہنا فرض ہے اور اس کی مدت عید کا چاند دیکھنے یا دو گواہوں کی گواہی تک ہے۔
	پھر اگر اسے مال حاصل ہوا یا بلوغت کے وقت اس کے پاس مال تھا تو یہ جاننا فرض ہے کہ اس مال پر کتنی زکوٰۃ فرض ہے لیکن یہ اسی وقت فرض نہیں بلکہ اسلام لانے کے وقت سے سال پورا ہونے پر فرض ہوگا۔ اگر وہ صرف اونٹوں کا مالک ہے توانہیں کی زکوٰۃ کا جاننا فرض ہوگا۔ اسی طرح مال کی دیگراقسام میں   بھی۔
	پھر حج کے مہینے شروع ہونے پر فوری اس کا علم حاصل کرنا فرض نہیں ہوگا کیونکہ حج کی ادائیگی عَلَی التَّرَاخِی (یعنی تاخیر سے) فرض ہے(۱) لیکن علما کو چاہئے کہ وہ اسے اس بات سے آگاہ کر دیں کہ حج ہر اُس شخص پر عَلَی التَّرَاخِی 
فرض ہے جو زادِ راہ اور سواری کا مالک ہو اوراس پر قادربھی ہو کیونکہ بسا اوقات کوئی جلدی کرنے کی محتاط رائے رکھتا ہے۔ بہر حال جب وہ حج کا پختہ ارادہ کرلے گاتواس پر حج کے فرائض وواجبات کاعلم حاصل کرنا فرض ہو جائے گا جبکہ نوافل کا علم حاصل کرنا ضروری نہیں ۔ اگرحج نفلی ہو تو اس کا علم بھی نفلی ہو گا اس وقت اسے سیکھنا فرضِ عین نہیں ہو گا اور یہ کہناکہ’’ اصلِ حج فوراً واجب ہے پر آگاہ نہ کرنا حرام ہے‘‘ اس میں   نظر(یعنی غورفکرکی ضرورت) ہے جس کا تعلق علمِ فقہ سے ہے۔ دیگرتمام فرض افعال میں   بھی یہی طریقہ کار ہوگا۔
	دوسرے کی مثال: حالات کی تبدیلی کے مطابق تروک(یعنی جن باتوں سے بچنے کا حکم ہے ان) کا علم سیکھنا فرض ہے اور یہ ہر شخص کی حالت کے پیشِ نظر مختلف ہے۔ چنانچہ، گونگے پر حرام باتوں کا علم سیکھنا فرض نہیں اور اندھے پر یہ سیکھنا فرض نہیں کہ کن چیزوں کو دیکھنا حرام ہے۔ جنگل میں   رہنے والے پریہ سیکھنا فرض نہیں کہ کن کن مجلسوں میں   بیٹھنا حرام ہے کیونکہ تروک کا علم بھی حسب ِ حال ہی فرض ہوتا ہے۔ الغرض جوچیزیں ضروریات(دین)سے نہیں ان کا علم سیکھنا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پرمشتمل کتاب بہارِشریعت جلداول، صفحہ1036 پر صَدْرُ الشَّرِیْعَہ ، بَدْرُ الطَّرِیْقَہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نقل فرماتے ہیں :’’جب حج کے لیے  جانے پر قادر ہو حج فوراََ فرض ہوگیا یعنی اُسی سال میں اور اب تاخیر گناہ ہے اور چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود مگر جب کرے گا ادا ہی ہے قضا نہیں ۔