سیکھے اور اس کے معنی سمجھے جو یہ ہے:لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ(یعنی: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں )اس پر یہ واجب نہیں کہ اس میں غور وفکر، بحث اور دلائل لکھ کر وضاحت چاہے بلکہ اتنا کافی ہے کہ اس کی تصدیق کرے، اس کا اعتقاد رکھے اور اس کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہ کرے اور یہ بات بغیر بحث ودلائل کے محض تقلید وسماع سے حاصل ہو جاتی ہے اس لئے کہ پیارے مصطفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عرب کے کندذہنوں سے تصدیق اور اقرار کروانے پر اکتفا کیا دلیل نہیں سکھائی۔ (۱)
لہٰذاجب اس نے کلمۂ شہادت سیکھ کراس کے معنی سمجھ لئے تو اس نے اس وقت کے واجب کو ادا کر دیاکیونکہ اس وقت اس پرصرف دوکلموں کوسیکھنااورسمجھنافرضِ عین ہے کچھ اورفرض نہیں ۔ اس دلیل کی بنا پر کہ اگر وہ اس کی ادائیگی کے بعد مر گیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مطیع وفرمانبردار ہو کر مرے گا نہ کہ نافرمان ہوکر۔ کوئی دوسرا امر اس وقت فرض ہوگا جب عوارض(کسی کام کے کرنے یانہ کرنے کاباعث بننے والے امور) پائے جائیں اور یہ ہر شخص کے حق میں ضروری نہیں بلکہ ممکن ہے کہ بعض میں یہ عوارض نہ پائے جائیں ۔
عوارض کی اقسام اور مثالیں :
عوارض کی تین قسمیں ہیں : (۱) یاتو فعلیہ ہوں گے (یعنی ان کے کرنے کاحکم دیاگیا ہوگا) (۲)یا ترکیہ ہوں گے (یعنی ان سے بچنے کا حکم دیاگیا ہوگا) (۳)یا اعتقادیہ ہوں گے (کہ ان پریقین رکھناضروری ہوگا)۔
پہلے کی مثال: ( وقت ِ چاشت بالغ ہونے والا) چاشت سے وقت ِ ظہر تک زندہ رہا تو وقت ِ ظہر داخل ہونے سے اس پر طہارت اور نماز کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہوجائیں گے پھر اگر وہ تندرست ہے اور زوال کے وقت تک کچھ نہ سیکھے گا تو وقت میں سیکھ کر عمل کرنا ممکن نہیں رہے گا بلکہ سیکھنے میں ہی وقت جاتا رہے گا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا زندہ رہنا ظاہر ہے اس لئے اس پر فرض ہے کہ (ظہرکا)وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے ضروری مسائل سیکھ لے ۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ علم جو عمل کی شرط ہے عمل کے فرض ہونے کے بعد ہی فرض ہوگا اس لئے (طہارت اورنمازکے ضروری مسائل )زوالِ آفتاب سے پیشتر سیکھنافرض نہیں ۔ اسی طرح بقیہ نمازوں میں بھی ہوگا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
…کے مطابِق 15سال کی ہوتے ہی بالِغہ ہے۔(دُرِّمُختار، ج۹، ص۲۵۹، ملخصًا)
1…صحیح البخاری، کتاب العلم، باب ماجاء فی العلم…الخ، الحدیث:۶۳، ج۱، ص۳۹۔