صوفیا نے کہا: اس سے مرادعلمِ تصوُّف ہے۔ پھر ان میں سے بعض نے کہا: وہ علم یہ ہے کہ بندہ اپنے حال کو جانے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اپنا مقام ومرتبہ معلوم کرے۔
کسی نے کہا: وہ اخلاص، نفس کی آفات اور فرشتے کے الہام اور شیطان کے وسوسے کے درمیان فرق کرنے کا علم ہے۔ بعض نے لفظ کو اس کے عموم سے پھیرتے ہوئے کہا کہ وہ علم باطن ہے اور خاص قسم کے لوگوں پر فرض ہے جو اس کے اہل ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا ابو طالب مکی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اس سے مراد ان چیزوں کا علم ہے جنہیں وہ حدیث شامل ہے جس میں اسلام کی بنیادوں کا ذکر ہے اور وہ یہ فرمانِ مصطفٰی ہے کہ ’’ اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اوررسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا ، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا)۔‘‘ (۱)
چونکہ یہ پانچوں فرض ہیں اس لئے ان پر عمل کی کیفیت اور فرضیت کی کیفیت کا علم بھی فرض ہے۔
جس علم کے بارے میں علم حاصل کرنے والے پر واجب ہے کہ اس میں یقین رکھے اور شک نہ کرے یہ وہ ہے جسے ہم اب بیان کریں گے۔ جیساکہ ہم نے ابتدائیہ میں بھی بیان کیاکہ اس علم کی دو قسمیں ہیں :(۱)… علم معاملہ اور (۲)… علم مکاشفہ: اس سے علم معاملہ ہی مراد ہے ۔ نیزعاقل بالغ کو جس معاملے پر عمل کا پابند بنایا گیا ہے وہ تین ہیں : (۱)اعتقاد (۲) فعل(یعنی کرنا) اور (۳) ترک(یعنی نہ کرنا)۔ لہٰذاعقل مند شخص اگر چاشت کے وقت احتلام ہونے یا(بلوغت کی) عمر پوری ہونے کے سبب بالغ ہوا (۲) تو اس پر سب سے پہلے یہ واجب ہوگا کہ وہ کلمۂ شہادت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب الایمان…الخ، الحدیث:۸، ج۱، ص۱۴۔
2…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 397صفحات پرمشتمل کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب کے صفحہ71، 72 پرشیخِ طریقت امیرِاہلسنّت بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نقل فرماتے ہیں : سوال:لڑکا کب بالغ ہوتا ہے؟جواب:ہِجری سِن کے حساب سے 12اور 15سال کی عمر کے دَوران جب بھی (جِماع یا مُشت زنی وغیرہ کے ذَرِیعے) اِنزال ہوا یا سوتے میں احتلام ہوا یا اُس کے جماع سے عورت حاملہ ہوگئ تواُسی وَقت با لِغ ہو گیااور اُس پرغسل فرض ہو گیا۔ اگر ایسا نہ ہوا توہِجری سِن کے مطابِق 15برس کا ہوتے ہی با لِغ ہوگیا۔ سوال:لڑکی کب بالغہ ہوتی ہے؟جواب: ہِجری سِن کے حساب سے 9اور 15سال کی عمر کے دَوران احتلام ہو یا حیض آ جائے یا حمل ٹھہر جائے تو با لِغہ ہوگئ ورنہ ہجری سِن …