Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
71 - 1087
 باب نمبر2:	   محمود ومذموم علوم اوران کی اقسام واحکام
	اس باب میں   یہ بیان کیا جائے گا کہ کون سا علم فرضِ عین ہے اور کون سا فرضِ کفایہ؟ علمِ کلام اور علمِ فقہ کے علمِ دین ہونے کی کیا حد ہے؟ نیز علمِ آخرت کی کیا فضیلت ہے؟ 
پہلی فصل:				فرضِ عین علم کا بیان
	معلم کائنات،شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم حاصل کرنا ہرمسلمان پرفرض ہے۔‘‘ (۱)
	ایک روایت میں   ہے :’’اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ یعنی علم کی جستجو کرو اگرچہ چین میں   ہو۔‘‘ (۲)
کون ساعلم حاصل کرناہرمسلمان پرفرض ہے؟
	اس بات میں   علماکااختلاف ہے کہ وہ کون سا علم ہے جس کاحصول ہر مسلمان پر فرض ہے۔اس میں   20گروہ ہیں ۔ ہم تفصیل نقل کرکے کتاب کو طویل نہیں کرنا چاہتے، البتہ خلاصہ یہ ہے کہ ہر گروہ نے اسی علم کو فرض کہا جس پر وہ خود کاربند ہے۔ چنانچِہ، 
	متکلمین نے کہا: وہ علمِ کلام ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی وحدانیت ویکتائی کا اِدراک ہوتا اور اس کی ذات وصفات کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
	فقہا نے کہا: وہ علمِ فقہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے عبادات، حلال وحرام اور جائز وناجائز معاملات کی پہچان ہوتی ہے اور اس سے ان کی مراد وہ مسائل ہیں جن کی ضرورت ہر ایک کو پیش آتی ہے نہ کہ نوپید شاذ ونادر مسائل۔
	مفسرین ومحدثین نے کہا: اس سے قرآن وسنت کا علم مراد ہے، کیونکہ انہیں کے ذریعے تمام علوم تک رسائی ہوتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فضل العلماء والحث…الخ، الحدیث:۲۲۴، ج۱، ص۱۴۶۔ 
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی طلب العلم، الحدیث:۱۶۶۳، ج۲، ص۲۵۴۔