سے پہچانی جاتی ہے: (۱)…یا تو اس خصلت وفطرت کو دیکھا جاتا ہے جس کے ذریعے اس فن کی معرفت حاصل ہوتی ہے:جیسے علومِ عقلیہ علومِ لغویہ سے اس لئے افضل ہیں کہ حکمت کے حصول کا ذریعہ عقل ہے جبکہ لغت سماعی چیزہے(یعنی اس کاتعلق قوت حسیہ سے ہے) اور عقل سماعت سے افضل ہے۔ (۲)…یا نفع کو دیکھا جاتا ہے کہ کس کا نفع زیادہ ہے:جیسے زراعت زرگری(سنارکے پیشے) کی بنسبت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔(۳)…یا اس جگہ ومحل کو دیکھا جاتا ہے جس میں تصرف ہوتا ہے:جیسے زرگری چمڑا رنگنے کے پیشے سے افضل ہے کیونکہ زرگری کا محل سونا ہے جبکہ چمڑا رنگنے کا محل مردار کی کھال ہے۔ نیز یہ بات ظاہر ہے کہ علومِ دینیہ جو طریقِ آخرت کو سمجھنے کا نام ہیں ان کا حصول کمال عقل اور ذہن کی صفائی کے ذریعے ہوتا ہے اور عقل انسانی صفات میں سے سب سے افضل ہے جیساکہ اس کا بیان آگے آئے گااور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امانت کو قبول کیا جاتا اور اسی سے قرب ِ الٰہی تک رسائی ہوتی ہے۔ جہاں تک نفع عام ہونے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کا نفع کثیر ہے کیونکہ اس کا نفع اور نتیجہ آخرت کی سعادت ہے اور رہا اس کے محل کا معزز ہونا تو یہ بات کس طرح پوشیدہ رہ سکتی ہے کیونکہ معلم(یعنی علم سکھانے والا استاذ) انسانوں کے دلوں اور نفوس میں تصرف کرتا ہے نیز زمین پر موجود ہر چیز سے زیادہ شرف انسان کو حاصل ہے اور اس کے اعضاء میں سے سب سے افضل اس کا دل ہے اور معلم اس کی تکمیل کرنے ، اسے روشنی پہنچانے، (گناہوں کی غلاظت سے)پاک و صاف کرنے اور قربِ خداوندی تک پہنچانے میں مشغول رہتا ہے۔
عبادتِ الٰہی اور خلافت ِ الٰہی:
علم سکھاناایک حیثیت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اور ایک اعتبار سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خلافت ہے۔ بلکہ یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی خلافت ہے کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عا لِم کے دل پر اپنی سب سے خاص صفت(یعنی علم ) کھول دیتا ہے۔ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عمدہ خزانوں کا خازن (خزانچی) ہے اور اسے خزانۂ علم کو ہر محتاجِ علم پر صرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا اس سے بڑھ کر کیا رتبہ ہو سکتا ہے کہ بندہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ بن کر بندوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب کردے اور جنت کی طرف لے جائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں سے کر دے اور ہر نیک بندے پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو۔ (اٰمین)