بدن کی طرف۔ کیونکہ اعضائے انسانی بھی تین طرح کے ہیں : (۱)…اصول: جیسے دل، جگر، دماغ (۲)…جو اصول کے خادم ہیں : جیسے معدہ، رگیں ، شریانیں ، پٹھے اور گردن کی رگیں (۳)…انہیں مکمل کرنے والے اور ان کی زینت کا باعث بننے والے: جیسے ناخن، انگلیاں اور ابرو۔
ان تینوں میں افضل صنعت اصول (بنیاد) ہیں اور اصول میں افضل حکمت ِ عملی اور تدبیر ہے جس سے لوگوں میں اُنس و محبت پیدا ہو اور ان کی اصلاح ہو۔ اسی لئے جیسا کمال اس صنعت والے کے لئے درکار ہوتا ہے دوسری صنعت والوں میں مطلوب نہیں ہوتانیزاس صنعت کا مالک دوسری صنعت والوں سے خدمت لیتاہے۔
حکمت عملی کے مراتب:
مخلوق کی اصلاح چاہنے اور دنیا وآخرت میں نجات دینے والے صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والی حکمت ِ عملی کے چارمراتب ہیں :
{1}… انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی حکمت ِ عملی اور تدبیر:یہ سب سے بلندہے۔ ان کا حکم ہر خاص وعام کے ظاہر وباطن پر چلتا ہے۔
{2}…خلفا اور بادشاہوں کی حکمت ِعملی: ان کاحکم بھی ہر عام وخاص پر جاری ہوتا ہے لیکن صرف ظاہر پرنہ کہ باطن پر ۔
{3}…ذات باری تعالیٰ اوردین اسلام کاعلم رکھنے والے وارثین انبیا کی حکمت عملی:ان کا حکم صرف خاص لوگوں کے باطن پر ہی چلتا ہے۔ عام لوگوں کی سمجھ ان سے استفادہ کرنے تک رسائی نہیں پاتی اور نہ ہی انہیں لوگوں کے ظاہر پر کوئی حکم نافذ کرنے یا کسی چیز سے منع کرنے یا کوئی حکم جاری کرنے کی قوت حاصل ہے۔
{4}…واعظین کی حکمت عملی: ان کا حکم صرف عوام کے باطن پر چلتا ہے۔
نبوت کے بعد سب سے افضل عمل:
ان چاروں میں سے نبوت کے بعد سب سے افضل عمل، علم کا فائدہ پہنچانا، لوگوں کے دلوں کو ہلاک کر دینے والی بری عادتوں سے پاک کرنا، اچھی اور باعث ِ سعادت خصلتوں کی طرف ان کی راہنمائی کرنا ہے۔ علم سکھانے سے یہی مراد ہے۔ہم نے اسے تمام صنعتوں اور پیشوں سے افضل اس لئے کہا کیونکہ کسی بھی صنعت وحرفت کی عظمت تین باتوں