کمال کی وجہ سے ان سے زیادہ درَجے کا حامل ہے۔
یہ مطلق علم کی فضیلت ہے۔ پھر علوم مختلف ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے فضائل بھی مختلف ہوں ۔ علم سکھانے اور سیکھنے کی(منقولی) فضیلت تو اس سے ظاہر ہے جو ہم بیان کر آئے۔(اور عقلی فضیلت یہ ہے کہ) جب علم افضل امور میں سے ہے تو اسے حاصل کرنا افضل کام کی جستجو کرنا اور سکھانا افضل کام کا فائدہ پہنچانا ٹھہرا۔
بارگاہِ الٰہی تک رسائی کا ذریعہ :
مخلوق کو دینی ودنیوی دونوں طرح کی حاجات درپیش ہوتی ہیں ۔ دنیا کا نظام چلے بغیر دین کا نظام نہیں چل سکتا کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ جو اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچانے کاذریعہ اور اپنی منزل قرار دے یہ اسی کے لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے نہ کہ اس کے لئے جو اسے اپنا مستقل ٹھکانا اور وطن بنا لے۔ دنیا کا انتظام انسانوں کے اعمال سے ہی چلتا ہے اور انسانوں کے اعمال، پیشے اور صنعتوں کی تین قسمیں ہیں :
{1}…اصول جن کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ یہ چارہیں : (۱)…زراعت: کھانے کے لئے۔ (۲)…کپڑا بُنائی: پہننے کے لئے ہے۔(۳) …تعمیر:رہائش کے لئے اور(۴)…حکمت عملی وتدبیر: باہمی الفت، اتحاد اور اسبابِ معیشت کی مضبوطی پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے لئے بنیاد ہے۔
{2}…وہ امور جو ان تمام صنعتوں کی تیاری کے کام آتے اور ان کے لئے خادم کی حیثیت رکھتے ہیں : جیسے آہن گری (یعنی لوہار کا پیشہ) زراعت بلکہ دیگر صنعتوں کے بھی کام آتا ہے کہ کھیتی باڑی کرنے کے اوزار اسی سے تیار ہوتے ہیں اور جیسے رُوئی دھنکنا اور دھاگے بنانا یہ دونوں کپڑا بننے کی صنعت میں کام آتے ہیں کہ اس کے لئے اشیاء تیار کرتے(یعنی سوت وغیرہ مہیا کرتے) ہیں ۔
{3}… وہ امور جو اصول کو پورا کرتے اور ان کی آرائش وزیبائش کرتے ہیں : جیسے آٹا اور روٹی زراعت کے لئے اور کپڑوں کی سفیدکاری اور سلائی کا پیشہ کپڑے بنائی کے لئے۔
انسانی اعضاء کی اقسام:
مذکورہ تین امور کی نسبت دنیاکے ضروری انتظام کی طرف ایسی ہے جیسی انسان کے اعضاء کی اس کے پورے