مرغوب اشیاء کی اقسام اور ان کی مثالیں :
جان لیجئے! عمدہ اور نفیس چیز جس میں رغبت کی جاتی ہے اس کی تین قسمیں ہیں : (۱)…جس کی طلب کا سبب کوئی امرِ غیر ہو (۲)…جس کی طلب کا سبب خود اس کی ذات ہو اور (۳)…جس کی طلب خود اس کی ذات کی وجْہ سے بھی ہو اور کسی دوسرے سبب کی وجہ سے بھی۔ دوسرا پہلے سے افضل واشرف ہے۔ پہلے کی مثال: درہم ودینار ہیں کہ یہ درحقیقت دوبے فائدہ پتھر ہیں اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے ذریعے حاجات کی تکمیل کو آسان نہ فرماتا تو یہ دونوں پتھر اور کنکر برابر ہوتے۔ دوسرے کی مثال: اُخروی سعادت اور دیدارِ الٰہی کی لذّت ہے۔ تیسرے کی مثال: بدن کی سلامتی ہے: مثلاً پاؤں کی سلامتی اس لئے مطلوب ہوتی ہے کہ بدن تکلیف سے بچے اور اس لئے بھی کہ اس کے ذریعے چل کر ضروریات تک رسائی ہو۔
اب اس اعتبار سے علم کو دیکھو تو وہ فی نفسہٖ (یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے)لذیذ ہے لہٰذا وہ دوسری قسم میں شامل ہے(جو پہلی سے افضل ہے) نیز وہ آخرت اور اس کی سعادت کا وسیلہ اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے کہ بغیر اس کے قربِ الٰہی حاصل نہیں ہوتا۔ آدمی کے حق میں سعادتِ ابدی کا مرتبہ سب سے بلند ہے اور اس کا وسیلہ سب چیزوں سے افضل ہے اور سعادتِ ابدی بغیر علم وعمل کے حاصل نہیں ہوسکتی اور عمل کی کیفیت کا علم نہ ہو تو عمل تک رسائی نہیں ہوتی۔ پتا چلا کہ دنیا وآخرت کی اصل سعادت علم ہے اسی لئے یہ سب سے افضل ہے۔
علم کا اخروی فائدہ:
علم اس وجہ سے بھی افضل ہے کہ تم جانتے ہو کسی چیزکانتیجہ جتنی عظمت وشان والا ہوگا وہ شے بھی اتنی ہی فضیلت والی ہوگی اور تم جان چکے ہوکہ علم کا اُخروی فائدہ ربُّ العٰلمین عَزَّوَجَلَّ کا قرب اور فرشتوں اور ملاء اَعلیٰ(یعنی آسمانی مخلوق) سے مل جانا ہے جبکہ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ عزت ووقار میں اضافہ، بادشاہوں پر حکم کا نفاذ اور طبیعتوں میں ضروری طورپراحترام کرنا پایاجاتاہے حتی کہ ترکی کے کُند ذہن اور عربوں کے سخت مزاج لوگ بھی طبیعتوں کے ہاتھوں اپنے بڑوں کی عزت وتوقیر کرنے پر مجبور ہیں اس لئے کہ وہ تجربے سے حاصل ہونے والے زیادہ علم کے ساتھ خاص ہوتے ہیں بلکہ جانور بھی طبعی تقاضوں کی وجْہ سے انسان کی عزت کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا شعور ہے کہ انسان