Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
66 - 1087
چوتھی فصل:		علم کی فضیلت پرعقلی دلائل
	یادرہے! اس باب کا مقصودیہ ہے کہ علم کی فضیلت اور عمدگی معلو م ہو اور درحقیقت فضیلت کا مفہوم اور مراد جانے بغیر یہ معلوم نہیں کیاجاسکتا کہ فضیلت کا ہونا علم کے لئے یا کسی اور خصلت کے لئے وصف ہے۔ پس وہ شخص ضرور بہک جاتا ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ زید حکیم ہے یا نہیں لیکن وہ ابھی تک حکمت کے معنٰی اور اس کی حقیقت سے نابلد ہے (اس لئے ہم پہلے فضیلت کا معنی اور مراد بیان کرتے ہیں ) ۔چنانچِہ،
فضیلت کا لغوی اور اصطلاحی معنی:
	فضیلت فضل سے ماخوذ ہے اور فضل زیادتی کو کہتے ہیں ۔ جب دوچیزیں کسی بات میں   مشترک ہوں اور ان میں   ایک کسی اضافی بات سے خاص ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس سے افضل ہے اور اسے اس پر فضیلت حاصل ہے جبکہ وہ اضافی بات اس میں   موجود ہو جو اس کے لئے کمال کی بات ہو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: گھوڑا گدھے سے افضل ہے۔ کیونکہ بوجھ اٹھانے کی قوت میں   تو گھوڑا گدھے کا شریک ہے لیکن حملہ کرنے، دوڑنے، سخت حملہ آوَر ہونے کی قوت اور حسنِ صورت کی خوبیاں گھوڑے میں   اضافی ہیں ۔ اب اگر بالفرض گدھے کو اضافی سامان کے ساتھ خاص کیا جائے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ گھوڑے سے افضل ہو گیا کیونکہ یہ جسمانی اضافہ ہے جبکہ حقیقت میں   کمی جوکہ کوئی کمال کی بات نہیں ، اس لئے کہ حیوان میں   جسم نہیں بلکہ معنویت(یعنی اصلیت) اور اس کی صفات مقصود ہوتی ہیں ۔
علم کی عقلی فضیلت:
	یہ سمجھنے کے بعد تم پر پوشیدہ نہ رہا کہ علم کی نسبت اگر دوسرے اَوصاف کی طرف کی جائے تو اس کی ایک فضیلت ہے جس طرح دیگر تمام حیوانوں کی بنسبت گھوڑے کی ایک فضیلت ہے، بلکہ سخت حملہ آور ہونا گھوڑے کی(اضافی) فضیلت ہے مطلق فضیلت نہیں جبکہ علم کو اپنی ذات کے اعتبارکسی کی طرف اضافت کئے بغیرمطلقاً فضیلت حاصل ہے کیونکہ یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا وصف کمال ، انبیائے کرام اور ملائکہ عظامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا شرف ہے بلکہ سدھایاہوا گھوڑا بے سدھائے گھوڑے سے اچھاہے۔ لہٰذاعلم کو بغیر کسی اضافت کے مطلقاً فضیلت حاصل ہے۔